کراچی: گلستانِ جوہر میں رینجرز تنصیب کے قریب دھماکے اور فائرنگ کا واقعہ، سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری
کراچی: گلستانِ جوہر کے علاقے میں رینجرز کی ایک تنصیب کے قریب دھماکے اور فائرنگ کے واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق موسمیات چورنگی کے قریب واقع رینجرز کمپاؤنڈ کے اطراف دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔
وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رابطہ کرکے واقعے کی مکمل تفصیلات طلب کی ہیں۔
ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی ہے کہ پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر ضروری اقدامات یقینی بنائے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
ذرائع کے مطابق اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) کی سواٹ ٹیم بھی موقع پر موجود ہے جبکہ کمانڈنٹ ایس ایس یو عامر خان نیازی آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ریسکیو 1122 سندھ کے ترجمان کے مطابق چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ بھی امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے جائے وقوعہ روانہ ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع پر حملہ آوروں کی تعداد، دہشت گردوں کی ہلاکتوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان سے متعلق مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور نقصانات سے متعلق حتمی معلومات آپریشن مکمل ہونے اور سرکاری بیان جاری ہونے کے بعد فراہم کی جائیں گی۔نوٹ: جماعت الاحرار کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع یا سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہوئی،