پوڈکاسٹر ریحان طارق کی معذرت بھی تنازع ختم نہ کر سکی، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل، قانونی کارروائی کا مطالبہ

پوڈکاسٹر ریحان طارق کی معذرت بھی تنازع ختم نہ کر سکی، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل، قانونی کارروائی کا مطالبہ

اسلام آباد: محرم الحرام کے تناظر میں ایک پوڈکاسٹ کے دوران مذہبی معاملات سے متعلق متنازع سوالات اٹھانے پر پوڈکاسٹر ریحان طارق شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے کلپ میں شیعہ عقائد اور فنڈنگ سے متعلق سوالات پر مختلف مذہبی و سماجی حلقوں نے سخت اعتراضات اٹھائے، جس کے بعد ریحان طارق نے ایک ویڈیو پیغام میں معذرت کرتے ہوئے اپنے سوالات پر افسوس کا اظہار کیا اور آئندہ زیادہ ذمہ دارانہ صحافتی معیار اپنانے کا وعدہ کیا۔

تاہم ان کی وضاحت اور معذرت کو سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین نے مسترد کر دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں اپنی غلطی پوری طرح تسلیم کرنے کے بجائے ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی گئی، جس سے تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔

معروف مذہبی اسکالر شاہ اویس نورانی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ اصل ذمہ داری پوڈکاسٹر پر عائد ہوتی ہے، جس نے متنازع سوالات اٹھا کر مذہبی حساسیت کو ہوا دی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی سے غلطی ہوئی ہے تو اسے کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے، نہ کہ دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔

اسی طرح سماجی کارکن عمار سولنگی نے بھی ریحان طارق کی معذرت کو “غیر مخلصانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں ندامت کے بجائے اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

دوسری جانب مختلف سوشل میڈیا صارفین نے بھی یہ سوال اٹھایا کہ متنازع مذہبی اور سیاسی موضوعات میں ریحان طارق کا نام بار بار کیوں سامنے آتا ہے۔ بعض صارفین نے حکومتی سرپرستی کے الزامات بھی عائد کیے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی حکومت یا وزارت داخلہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے آیا ہے۔

تاحال اس معاملے پر کسی باقاعدہ قانونی شکایت یا مقدمے کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم سوشل میڈیا پر قانونی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، جبکہ یہ واقعہ پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا، اظہارِ رائے اور مذہبی حساسیت کے حوالے سے جاری بحث کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔

متنازع بیان پر سوشل میڈیا میں شدید ردعمل، پوڈکاسٹر کی وضاحت بھی تنقید نہ روک سکی

اسلام آباد: ایک نجی پوڈکاسٹ کے دوران مذہبی شخصیات سے متعلق متنازع گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جبکہ متعلقہ پوڈکاسٹر کی جانب سے جاری کی گئی وضاحتی ویڈیو بھی صارفین کی تنقید کم نہ کر سکی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدد صارفین نے پوڈکاسٹر کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ معروف مذہبی اسکالر شاہ اویس نورانی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پوڈکاسٹر نے مذہبی تنازع کھڑا کرنے کے بعد اب ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی سے غلطی ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری قبول کی جانی چاہیے، نہ کہ دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارف عمار سولنگی نے بھی وضاحتی ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ یہ معذرت قابل قبول نہیں، کیونکہ ان کے بقول ویڈیو میں اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے الزام کسی اور پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی قانونی طور پر بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

واضح رہے کہ یہ تنازع ایک پوڈکاسٹ کے کلپ کے وائرل ہونے کے بعد شروع ہوا، جس میں مذہبی حوالے سے کی گئی گفتگو پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔ بعد ازاں پوڈکاسٹر نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اپنے مؤقف کی وضاحت پیش کی، تاہم سوشل میڈیا پر بحث اور تنقید کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

اس معاملے پر متعلقہ حکومتی اداروں یا وزارت داخلہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

نوٹ: سوشل میڈیا پر بعض صارفین کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ پوڈکاسٹر کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سرکاری مؤقف سامنے آیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں