کشمیر کی شناخت پر خواجہ آصف اور وزیراعظم آزاد کشمیر آمنے سامنے، سوشل میڈیا پر لفظی جنگ

کشمیر کی شناخت پر خواجہ آصف اور وزیراعظم آزاد کشمیر آمنے سامنے، سوشل میڈیا پر لفظی جنگ

اسلام آباد/مظفرآباد: پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم چوہدری فیصل ممتاز راٹھور کے درمیان “کشمیریت” اور آزاد کشمیر کی حکمرانی سے متعلق بیانات پر سوشل میڈیا پر لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پیغام میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنی شناخت کے لیے نہ وزیر دفاع خواجہ آصف اور نہ ہی کسی اور سے تصدیق لینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات لوگوں کو قریب لانے کے بجائے تقسیم کا باعث بن رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنے متنازع بیان پر تنقید کے بعد وزیر دفاع اب آزاد کشمیر کی طرزِ حکمرانی پر تنقید کرکے اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ راٹھور نے مطالبہ کیا کہ خواجہ آصف کو اپنے ابتدائی ریمارکس پر معذرت کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ وہ آزاد کشمیر کی حکومت کو موردِ الزام ٹھہرائیں۔

اس کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آزاد کشمیر کے بحران سے متعلق ان کے ریمارکس “واضح اور دیانتدارانہ” تھے اور بعض عناصر انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ کشمیر کو پاکستان سے الگ کیا جا سکتا ہے اور نہ پاکستان کو کشمیر سے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ 1947 میں پاکستان ہجرت کرنے والے کشمیریوں کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ 78 برس سے جاری جدوجہد شہادتوں اور قید و بند کی داستان ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے پانچ جنگوں میں اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر، اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے اور حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت کرکے مسئلہ کشمیر سے اپنی وابستگی ثابت کی ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر سے پاکستان اور تحریکِ کشمیر کے خلاف اٹھنے والی “بیرونی ایجنڈے سے متاثرہ آوازوں” کا بھرپور جواب دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام، جو کئی دہائیوں سے پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے فوجیوں سمیت مقامی اہلکاروں کی حفاظت میں پرامن زندگی گزار رہے ہیں، انہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام اور 1947 کے مہاجرینِ کشمیر کی قربانیوں کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ان کے نزدیک “کشمیریت” کی تعریف پیدائشی سرٹیفکیٹ سے نہیں بلکہ گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط قربانیوں، جدوجہد اور پاکستان سمیت تمام کشمیریوں کی مشترکہ کاوشوں سے ہوتی ہے۔

یہ بیانات سوشل میڈیا پر وسیع بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں، جہاں مختلف حلقے دونوں رہنماؤں کے مؤقف پر اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں