راولاکوٹ واقعہ: کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسند عناصر کی فائرنگ سے ۴ قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید، ۲۰ سے زائد پولیس اور سیکورٹی اہلکار زخمی

راولاکوٹ واقعہ: کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسند عناصر کی فائرنگ سے ۴ قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید، ۲۰ سے زائد پولیس اور سیکورٹی اہلکار زخمی

راولاکوٹ، ۷ جون ۲۰۲۶: انسپکٹر جنرل پولیس آزاد جموں و کشمیر نے راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح شرپسند عناصر کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے افسران اور اہلکاروں پر کالعدم تنظیم JAAC کے سرغنوں کی پیشگی منصوبہ بندی کے تحت فائرنگ، امن و امان کو سبوتاژ کرنے اور سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

آج راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر نے احتجاج کے نام پر جمع ہو کر ڈیوٹی پر موجود قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو منصوبہ بندی کے تحت براہ راست نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ۴ قانون نافذ کرنے والے اہلکار جام شہادت نوش کر چکے ہیں ، جبکہ ۲۰ سے زائد پولیس اور سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ شہید و زخمی اہلکاروں کے زخم فائر آرم اور گن شاٹ نوعیت کے ہیں۔

آئی جی پولیس آزاد جموں و کشمیر نے کہا ہے کہ یہ واقعہ کسی پرامن سیاسی احتجاج کا تسلسل نہیں، بلکہ ایک منظم، مسلح اور دہشت گردانہ کارروائی ہے جس میں ریاستی رٹ، عوامی امن، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایک طبی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ نہ صرف قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ مریضوں، طبی عملے، زخمی اہلکاروں اور عام شہریوں کی سلامتی کو براہ راست خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

“قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ، شہادتیں، گن شاٹ زخمی، اور بعد ازاں سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ واضح دہشت گردی ہے۔ اس حملے کا قانونی نتیجہ ناگزیر، شواہد پر مبنی اور آئین و قانون کے عین مطابق اور یقینی ہوگا۔ کسی مسلح جتھے کو آزاد کشمیر کے امن، شہریوں کی سلامتی اور ریاستی نظم کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”

آزاد جموں و کشمیر پولیس شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور ان کی قربانی آزاد کشمیر کے امن، شہریوں کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے ہے۔ پولیس شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور زخمی اہلکاروں کے علاج معالجے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

آزاد کشمیر پولیس اور انتظامیہ واضح کرتی ہے کے ریاستی رٹ، عوامی امن اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ قانون اپنا راستہ لے گا۔

ترجمان
دفتر انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر پولیس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں