ایڈیشنل سیشن جج اٹک نے ڈسٹرکٹ کورٹ اٹک میں تعینات آفیسر گریڈ 16 نواب خان کی درخواست پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے ڈائریکٹر ایف آئی اے راولپنڈی زون کو مقدمہ درج کرنے اور شفاف تحقیقات کا حکم دے دیاہے،درخواست میں ایس ایچ او تھانہ سٹی اٹک سجاد حیدر سمیت چار پولیس افسران کو فریق بنایا گیا تھا،درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 14 مئی 2026 کو ٹریفک چالان کے بعد جرمانہ ادا کرنے کے باوجود ان کا شناختی کارڈ واپس نہیں کیا گیا،اگلے روز شناختی کارڈ لینے تھانہ جانے پر انہیں مبینہ طور پر بدسلوکی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا،عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ بادی النظر میں یہ معاملہ ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022 اور دیگر فوجداری قوانین کے دائرے میں آتا ہے،عدالتی حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ جواب دہندگان کا یہ اعتراض کہ درخواست گزار کے خلاف پہلے سے مقدمہ درج ہے، نئی کارروائی نہ کرنے کا جواز نہیں بن سکتا،عدالت نے واضح کیا کہ جب الزامات خود پولیس اہلکاروں کے خلاف ہوں تو انصاف اور شفافیت کے تقاضے کے تحت تحقیقات ایک آزاد اور مجاز ادارے کے ذریعے ہونی چاہئیں،ایڈیشنل سیشن جج نے ڈائریکٹر ایف آئی اے راولپنڈی زون کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق فوری مقدمہ درج کرکے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں،عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ تفتیشی ادارہ میڈیکل ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی روشنی میں ہر نامزد ملزم کے کردار کا آزادانہ تعین کرے گا،عدالت نے معاملے کی تحقیقات مقامی پولیس کے بجائے ایف آئی اے کے سپرد کیں،قانونی ماہرین اسے ایک اہم عدالتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں،عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تھانوں میں جب ایک عدالتی افسر محفوظ نہیں تو عام عوام کا کیا حال ہو گا اس لئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور آئی جی پنجاب کو تھانہ کلچر حقیقت میں بدلنا چاہیے ۔
@MaryamNSharif
@OfficialDPRPP


