اسلام آباد: ایک بارش نے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی حقیقت آشکار کر دی
اسلام آباد میں حالیہ بارش نے ضلعی انتظامیہ، وفاقی وزراء اور منتخب عوامی نمائندوں کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کروڑوں اور اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے ترقیاتی منصوبے پہلی ہی بارش کا دباؤ برداشت نہ کر سکے اور متعدد مقامات پر ناقص منصوبہ بندی اور تعمیراتی خامیاں کھل کر سامنے آگئیں۔
شہریوں کے مطابق بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے باقاعدہ نظام موجود ہونے کے باوجود انتظامیہ نے عارضی اور غیر پیشہ ورانہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے سڑک کو توڑ کر پانی کا رخ دوسری سڑک کی جانب موڑ دیا۔ اس صورتحال نے نہ صرف عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا بلکہ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے والے قومی خزانے کے اربوں روپے پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
شہر بھر میں متعدد مقامات پر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں، جبکہ نکاسی آب کے ناقص انتظامات کے باعث بارش کا پانی گھنٹوں جمع رہا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر منصوبوں میں شفافیت، معیاری تعمیرات اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جاتا تو پہلی ہی بارش میں یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ناقص تعمیراتی کاموں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قومی خزانے کے ضیاع کا سلسلہ روکا جا سکے۔