کشمیری مہاجرین کی تنظیم نے PMAJK کی APC میں نہ بلانے اور مہاجرین کے خلاف پراپیگنڈہ کو قومی یک جہتی کے خلاف قرار دیا

*اعلامیہ / منعقدہ اجلاس ورکنگ کمیٹی مہاجرین جموں کشمیر 1989 / مظفرآباد 3 جون 2026*

دارالحکومت مظفرآباد میں ورکنگ کمیٹی مہاجرین جموں کشمیر 1989 کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مہاجرین جموں کشمیر 1989 کو درپیش سیاسی، سماجی اور آئینی مسائل، مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور مہاجرین کے مستقبل سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اجلاس نے تحریکِ آزادی کشمیر، مملکتِ خداداد پاکستان سے محبت اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدو جہد کو ہر قسم کے مفادات سے بالاتر قرار دیا ۔ بیس کیمپ آزاد جموں کشمیر کو مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کے انعقاد اور کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنا طے شدہ آئینی، قومی اور تاریخی کردار پوری ذمہ داری اور بصیرت کے ساتھ ادا کرنے کا مطالبہ ۔

اجلاس نے تمام تر عوامی مسائل ، شکایات اور مشکلات کا حل باہمی مشاورت، افہام و تفہیم اور اتفاقِ رائے کے ذریعے تلاش کیئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ہم سب کا ملک پاکستان اور ہماری ریاست آزاد جموں کشمیر کی نیک نامی ، ترقی ، خوشحالی ، امن اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا مطالبہ ۔

ورکنگ کمیٹی مہاجرین جموں کشمیر 1989 نے 25 کروڑ عوامِ پاکستان، 45 لاکھ عوامِ آزاد جموں و کشمیر اور 18 لاکھ عوامِ گلگت بلتستان کے لیے کشمیری عوام کی جانب سے محبت، عقیدت اور تشکر کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی اخوت، مشترکہ قربانیوں اور تاریخی رشتوں پر استوار یہ لازوال تعلقات ہمیشہ مضبوط اور مستحکم رہیں گے۔

اجلاس نے شہدائے اور مہاجرین جموں کشمیر 1947، 1965 اور 1971 کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی سابقہ مہاجر خاندانوں کے ہزاروں نوجوانوں نے 1990 کے بعد مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدو جہد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان عظیم قربانیوں کو تاریخ کا روشن باب قرار دیتے ہوئے اجلاس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہداء کی جدو جہد اور قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس نے وزیراعظم آزاد کشمیر کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والے حالیہ مشاورتی اجلاس اور آل پارٹیز کانفرنس میں مہاجرین جموں کشمیر 1989 کے نمائندوں کو مدعو نہ کیے جانے پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ جب مہاجرین کے سیاسی مستقبل، نمائندگی، حقوق اور آئینی حیثیت جیسے اہم معاملات زیرِ بحث ہوں تو اصل فریق کو مشاورتی عمل سے باہر رکھنا کسی طور مناسب نہیں۔ کسی بھی پائیدار، منصفانہ اور قابلِ قبول فیصلے کے لیے ضروری ہے کہ متاثرہ طبقے کی رائے کو براہِ راست سنا جائے اور اسے فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر نمائندگی دی جائے۔

اجلاس نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ہائی پاور کمیٹی کے اراکین راجہ پرویز اشرف، ڈاکٹر فضل چوہدری، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، قمر الزمان کائرہ اور دیگر ممبران و ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ مہاجرین جموں کشمیر 1989 کی مستقل اور مؤثر سیاسی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں جموں اور وادی کشمیر کی دو نشستیں مختص کی جائیں تاکہ ہزاروں مہاجرین اور مقبوضہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کی آواز کو آئینی ساز اسمبلی میں اُٹھایا جا سکے ۔

اجلاس نے مہاجرین جموں کشمیر 1989 کے لیے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں سابقہ چھ فیصد کوٹہ فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم، روزگار اور ترقی کے مساوی مواقع مہاجرین کا بنیادی حق ہیں اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
اجلاس نے حکومت پاکستان اور حکومت آزاد جموں کشمیر سے مطالبہ کیا کہ مہاجرین 1989 کی یکساں، باعزت اور مستقل آبادکاری کے لیے خصوصی مالی پیکج فراہم کیا جائے تاکہ گزشتہ چار دہائیوں سے جاری رہائشی، معاشی اور سماجی مسائل کا مؤثر اور دیرپا حل ممکن بنایا جا سکے۔

اجلاس نے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے مہاجرین جموں کشمیر، تحریکِ آزادی کشمیر اور پاکستان کے خلاف جاری منفی پروپیگنڈے کو نفرت انگیز، شرانگیز اور قومی مفادات کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایسے عناصر کشمیری عوام کے اتحاد، قومی یکجہتی اور تحریکِ آزادی کشمیر کے بنیادی مؤقف کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

اجلاس نے مقبوضہ جموں کے ضلع راجوری میں بھارتی فوجی قبضے کے خلاف جاری کشمیری مزاحمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اپنی سرزمین، شناخت اور حقِ خودارادیت کے تحفظ و حصول کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں جنہیں پوری قوم عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

اجلاس نے اقوامِ متحدہ، عالمی برادری اور بااثر عالمی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قراردادوں اور ذمہ داریوں کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو حقِ خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

اجلاس نے پاکستان کی جانب سے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل، اصولی اور غیر متزلزل حمایت پر حکومتِ پاکستان، عوامِ پاکستان اور تمام قومی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس حمایت کو کشمیری عوام کے لیے حوصلہ افزا اور امید افزا قرار دیا۔

اجلاس نے مقبوضہ جموں کشمیر میں ہندوستانی فوجی قبضے، ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گرفتاریوں اور کالے قوانین کو کشمیری عوام کے خلاف دہلی حکومت کے سامراجی اور استعماری ہتھکنڈے قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کیا۔

اجلاس نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں اور عالمی ضمیر سے مطالبہ کیا کہ بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیری سیاسی کارکنوں، حریت رہنماؤں، نوجوانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی فوری رہائی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مہاجرین جموں کشمیر 1989 اپنے سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق کے حصول، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی پرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد پوری قوت اور یکسوئی کے ساتھ جاری رکھیں گے۔

اجلاس میں ورکنگ کمیٹی کے ممبران ، منتخب کونسلرز ، کیمپس ہا صدور نوجوان راہنماؤں سمیت شیخ رشید احمد ، راجہ محمد عارف خان ، حاجی رنگیل بٹ ، خواجہ محمد اقبال ، گوہر احمد کشمیری ، راجہ ممتاز علی خان ، چوہدری محمد محمد ، اقبال یاسین اعوان ، بلال احمد فاروقی ، محمد اقبال میر ، منظور اقبال بٹ ، سر انداز میر ، عرفان احمد بٹ ، شبیر احمد ، فیاض احمد جگوال ، محمد فیاض اعوان ، ناظم الدین شیخ ، فیاض اعوان ، نعیم سجاد ، محمد صادق بٹ ، فیصل فاروق ، چوہدری عبدا لشکور ، عثمان علی ہاشم ، محمد نظیر چوہدری ، ولی الرحمن ، چوہدری محمد اقبال ، مختیار حسین بھٹی ، محمد اسلم انقلابی ، سید عبد الرحیم شاہ ، سید خاکی شاہ ، عزیر احمد غزالی اور دیگر راہنماؤں نے شرکت کی۔

*جاری کردہ: ورکنگ کمیٹی مہاجرین جموں کشمیر 1989 مظفرآباد آزاد جموں کشمیر*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں