سپریم کورٹ نے چودہ سالہ ملزم کی ضمانت منظور کرلی، عدالت نے درخواستگزار ملزم مہران کی ضمانت خارج کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

سپریم کورٹ نے چودہ سالہ ملزم کی ضمانت منظور کرلی، عدالت نے درخواستگزار ملزم مہران کی ضمانت خارج کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا عدالت نے پچاس ہزار روپے مچلکوں کے عوض کمسن ملزم مہران کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

وی او
جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محمدعلی مظہر کے تین رکنی بینچ کا حکمنامہ جاری کردیا گیا، عدالت نے کہا مقدمہ کے مطابق دو افراد گاڑی میں سفر کررہےتھے، مقدمہ کے مطابق دورانِ سفر ملزم مہران نے ایک ساتھی کے ساتھ گاڑی کو روکنے کی کوشش کی، مقدمہ کے مطابق گاڑی نہ روکنے پر ملزم مہران نے فائرنگ کی جس سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، سکول سرٹیفیکیٹ کے مطابق ملزم مہران وقوعہ کے وقت 14 سال 5 ماہ کا تھا، کم عمر ملزمان کو بالغ ملزمان سے ہٹ کر دیکھنے کا قانون ہے،کمسن ملزمان کے قوانین کے مطابق سزا نہیں بلکہ ان کو بحالی کے پروگرام سے گزارنا چاہیے،کمسن ملزمان کو اسپیشل ٹریٹمنٹ دینی ہے تاکہ مستقبل میں زمہ دار شہری بنیں، آرٹیکل 35 نے بچوں کو تحفظ دینے کا کہاہے، اقوام متحدہ نے بھی بچوں کو تحفظ دیا، کمسن بچوں کے قوانین کو مدِنظر رکھ کر کمسن ملزم مہران کی درخواست ضمانت کو دیکھا گیا،کمسن ملزمان کے قوانین کے مطابق ٹرائل مکمل نہ ہو تو 6 ماہ تک قید رہنے والے ملزم کو رہاکردیاجاتاہے، پولیس کی ناکامی ہے کہ کمسن ملزم کی عمر کا تعین وقت پر نہیں کیاگیا،ٹرائل کورٹ کا کمسن ملزم کی عمر کا تعین کرنے میں وقت لگانا ملزم کی طرف سے تاخیر نہیں کہی جاسکتی، فروری 2023 میں کمسن ملزم عمر گرفتار ہوا جس کو چھ ماہ سے زائد وقت قید میں ہوگیا،پچاس ہزار روپے مچلکوں کے عوض کمسن ملزم مہران کی درخواست ضمانت منظور کی جاتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں