مری کے گمشدہ نواب یزدیار کیکوباد منظرعام پر آگئے، جائیداد کی واپسی اور قانونی حقوق کے تحفظ کا معاملہ اعلیٰ سطح پر زیر غور، ضلعی انتظامیہ سے شفاف تحقیقات اور حقائق عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ
مری کے تاریخی نواب یزدیار کیکوباد، جن کی زمینوں اور جائیداد پر مبینہ قبضوں اور انہیں اپنی ہی سرزمین سے بے دخل کیے جانے کے معاملے نے کچھ عرصہ قبل توجہ حاصل کی تھی، اچانک اپنے وکلا کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر مری کی عدالت میں پیش ہوگئے۔ ان کی منظرعام پر آمد کو مری میں ان کی جائیداد اور قانونی حقوق سے متعلق طویل عرصے سے زیر بحث معاملے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
انجینئر ادریس عباسی کے مطابق انہوں نے جون 2026 میں دستیاب معلومات کی بنیاد پر ایک کالم تحریر کیا تھا، جس میں نواب یزدیار کیکوباد کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافیوں، مری کے مبینہ بلڈر مافیا کے ہاتھوں ان کی زمینوں اور جائیداد پر قبضوں اور بعدازاں انہیں اپنی ہی سرزمین سے بے دخل کیے جانے کے معاملے کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اس تحریر کا بنیادی مقصد محض ایک متاثرہ شخص کی داستان بیان کرنا نہیں بلکہ ان کے قانونی حقوق کی بحالی اور داد رسی کے لیے آواز بلند کرنا تھا۔
انجینئر ادریس عباسی نے اپنی تحریر میں مطالبہ کیا تھا کہ اگر نواب یزدیار کیکوباد کی کوئی جائیداد باقی ہے تو وہ انہیں اور ان کے بہن بھائیوں کو ان کے قانونی حصے کے مطابق واپس دلائی جائے۔
ان کے مطابق یہ تحریر تقریباً دس لاکھ پاکستانیوں تک پہنچی اور اس معاملے پر مقتدر حلقوں اور فیصلہ سازوں کی توجہ بھی مبذول ہوئی، جس کے نتیجے میں اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا گیا اور انتظامیہ کو ہدایات جاری ہوئیں کہ مال روڈ مری پر نواب یزدیار کیکوباد کی جائیداد کے حوالے سے مبینہ تجاوزات، قبضوں یا کسی قسم کے نقصان کی مکمل چھان بین کی جائے۔ اگر ان کی زمین کسی سرکاری یا قومی ضرورت کے تحت حاصل کی گئی ہے تو قانون کے مطابق اس کا معاوضہ بھی ادا کیا جائے۔
تحریر کے مطابق کچھ عرصہ قبل اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ نواب یزدیار کیکوباد کو اسلام آباد کے مختلف گیسٹ ہاؤسز میں رکھا گیا ہے، تاہم اب ان کا اپنے وکلا کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر مری کی عدالت میں اچانک پیش ہونا اس معاملے میں ایک نئی پیش رفت ہے۔
انجینئر ادریس عباسی نے امید ظاہر کی ہے کہ ڈپٹی کمشنر مری شیرازی اور متعلقہ انتظامیہ نواب یزدیار کیکوباد کی داد رسی کے لیے عملی اقدامات کریں گے اور ان کی جائیداد سے متعلق معاملات کو شفافیت، انصاف اور قانون کے مطابق حل کرتے ہوئے ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ نواب صاحب کی جائیداد کسی انتظامی اہلکار، سیاسی شخصیت یا مبینہ قبضہ مافیا کے مفادات کی نذر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کسی سرکاری ادارے کا اس جائیداد پر قانونی حق بنتا ہے تو اس کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا جائے، اگر کسی فرد یا خاندان کا حق ہے تو اسے تسلیم کیا جائے اور اگر نواب یزدیار یا ان کے بہن بھائیوں کا حق بنتا ہے تو انہیں بلا تاخیر ان کا جائز حصہ دیا جائے۔
انجینئر ادریس عباسی نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات مکمل کرنے کے بعد پریس کانفرنس کے ذریعے تمام حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ نواب یزدیار کیکوباد کی جائیداد کے ساتھ ماضی میں کیا کچھ ہوا اور اب ان کے قانونی حقوق کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی تحریر میں پارسی برادری کی جانب سے نواب یزدیار کے ساتھ اظہار یکجہتی کو بھی سراہا اور بتایا کہ ان کی سابقہ پوسٹ کے بعد پارسی برادری کے درجنوں افراد نے پیغامات بھیج کر ان کی مدد کے لیے کوائف طلب کیے تھے۔ ان میں امریکہ میں مقیم ایک پارسی خاتون کا پیغام خاص طور پر دلسوز تھا، جنہوں نے بتایا کہ ان کے والد نے یہ تحریر پڑھنے کے بعد پوری رات نیند نہیں کی۔
انجینئر ادریس عباسی کے مطابق ان کی کبھی نواب یزدیار کیکوباد سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی وہ انہیں ذاتی طور پر جانتے ہیں، تاہم ان کے لیے آواز اٹھانے پر امریکہ، کینیڈا، لندن اور پاکستان میں مقیم ان کے درجنوں دوستوں نے بھی مالی امداد بھیجنے کا عندیہ دیا۔
انہوں نے نواب یزدیار کیکوباد سے اپیل کی کہ اگر انہیں یہ نظام دوبارہ انصاف فراہم کرتا ہے اور ان کے حقوق بحال ہوتے ہیں تو وہ اپنے خاندان، بالخصوص اپنی بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ بھی انصاف کریں اور اپنے ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نواب صاحب کو اپنے بہن بھائیوں کے قانونی حقوق تسلیم کرتے ہوئے اپنی باقی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت اور اپنے وطن کے لیے وقف کرنی چاہیے، جس نے انہیں بہت کچھ دیا ہے۔
انجینئر ادریس عباسی نے کہا کہ مری کی تاریخ، تہذیب اور اجتماعی ضمیر کا تقاضا ہے کہ ایک ایسے شخص کے ساتھ انصاف کیا جائے جس کی داستان برسوں سے بے بسی اور بے دخلی کی علامت بنی ہوئی ہے۔
ان کے بقول نواب یزدیار کیکوباد کا منظرعام پر آنا بلاشبہ ایک اچھی خبر ہے، تاہم اس پیش رفت کے پس پردہ اصل حقائق آنے والے چند روز میں سامنے آنے کی توقع ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ صرف ایک نواب کی جائیداد کا نہیں بلکہ مری میں قانون کی بالادستی، شفاف انتظامی کارروائی اور کمزور افراد کے حقوق کے تحفظ کا بھی امتحان ہے۔
انجینئر ادریس عباسی کے مطابق اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نواب یزدیار کیکوباد کی جائیداد، مبینہ قبضوں، قانونی ملکیت اور ان کے بہن بھائیوں کے حصوں سے متعلق تمام معاملات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے کر ایسا فیصلہ کیا جائے جس سے کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور تمام قانونی حق داروں کو ان کا حق مل سکے۔