ایک دیوار کے سوراخ سے جھانکنے کا دعویٰ، ایک گھنٹے میں 16 مقدمات، سابق سیشن جج نے پولیس اور ایس پی سلطان خواجہ کے درمیان پیش آنے والے غیر معمولی واقعے کی کہانی سنا دی
روہڑی میں پولیس نے ایک ہی گھر کی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف مختلف مردوں کے ساتھ مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں صرف ایک گھنٹے کے اندر 16 مقدمات درج کر لیے۔ حیران کن امر یہ تھا کہ تمام مقدمات میں جائے وقوعہ ایک ہی گھر تھا، مدعی پولیس اہلکار تھے اور بیانات بھی تقریباً یکساں تھے۔
سابق سیشن جج آغا رفیق خان نے منصور نامہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے عدالتی کیریئر کا یہ دلچسپ اور غیر معمولی واقعہ بیان کیا۔ ان کے مطابق پولیس کا مؤقف تھا کہ اہلکار گلی سے گزر رہے تھے کہ مکان کی بیرونی دیوار میں موجود سوراخوں سے اندر جھانکنے پر انہیں خواتین مختلف مردوں کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں نظر آئیں۔
آغا رفیق خان کے مطابق ایک غریب خاندان کی خواتین اور لڑکیوں کو ان مقدمات میں نامزد کرکے گرفتار کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔ جب یہ مقدمات ان کی عدالت میں پیش ہوئے تو پولیس کے بیانات اور مقدمات کی یکسانیت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
سابق جج کے ذہن میں بنیادی سوال یہ تھا کہ پولیس اہلکاروں کی ذمہ داری کب سے یہ ہوگئی کہ وہ لوگوں کے گھروں کی دیواروں میں سوراخ تلاش کرکے اندر ہونے والی سرگرمیوں کی نگرانی کریں؟
انہوں نے اس وقت کے علاقہ ایس پی سلطان خواجہ کو عدالت میں طلب کرکے مقدمات کے مختلف پہلوؤں پر وضاحت طلب کی، تاہم ان کے بقول ایس پی انہیں مطمئن نہ کرسکے۔ بعد ازاں آغا رفیق خان اپنے عدالتی عملے اور ایس پی سلطان خواجہ کے ہمراہ خود جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تاکہ پولیس کے دعوے کی حقیقت معلوم کی جا سکے۔
ان کے مطابق موقع پر پہنچ کر یہ بات ناقابل یقین محسوس ہوئی کہ گلی میں کھڑے ہوکر مکان کے اندر ہونے والے کسی واقعے کو دیکھا جا سکتا تھا۔ عدالتی عملے کے متعدد افراد نے بھی دیوار میں مبینہ سوراخ تلاش کیے، لیکن کوئی ایسا سوراخ نہ مل سکا جس سے پولیس کا مؤقف درست ثابت ہوتا۔
سابق سیشن جج کے مطابق عدالت واپس آنے کے بعد اگلی پیشی پر انہوں نے تمام 16 مقدمات ڈسچارج کردیے اور گرفتار خواتین کو باعزت بری کردیا۔
آغا رفیق خان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کیا اور ایس پی سلطان خواجہ نے انہیں فون کرکے کہا کہ مقدمات ڈسچارج کرکے انہوں نے اچھا نہیں کیا۔
اس پر سابق جج نے اپنے متعلقہ جج صاحبان کو تحریری طور پر آگاہ کیا اور ایس پی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی تجویز دی۔ ان کے مطابق بعد ازاں سلطان خواجہ خود ان کے پاس آئے، اپنے کہے گئے الفاظ پر معذرت کی اور یوں معاملہ ختم ہوگیا۔
آغا رفیق خان کے بقول اس واقعے سے پولیس اہلکاروں کو یہ احساس ضرور ہوا کہ کسی غریب اور کمزور خاندان کو بلاوجہ مقدمات میں پھنسانا اور تھانے کچہریوں کے چکر لگوانا کوئی معمولی بات نہیں۔
وضاحت: یہ واقعہ سابق سیشن جج آغا رفیق خان نے منصور نامہ پوڈکاسٹ میں خود بیان کیا ہے۔ خبر میں بیان کردہ تمام تفصیلات انہی کے مؤقف پر مبنی ہیں۔ اس حوالے سے ایس پی سلطان خواجہ، متعلقہ پولیس حکام یا کسی دوسرے فریق کا مؤقف یا آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ لہٰذا واقعے کی تفصیلات کو سابق جج سے منسوب کیا جائے۔