پٹرولیم لیوی پر حکومت سے حتمی مذاکرات جاری، ریلیف نہ ملا تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے، حافظ نعیم الرحمن

پٹرولیم لیوی پر حکومت سے حتمی مذاکرات جاری، ریلیف نہ ملا تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت کے ساتھ مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، حکومت نے دو سے چار روز کی مہلت مانگی ہے، تاہم عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو مزید ٹال مٹول برداشت نہیں کی جائے گی اور فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کو کسی صورت قبول نہیں کرتی اور اس کے خاتمے کے لیے اپنے موقف پر قائم ہے۔

کراچی میں ادارہ نورِحق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے مسلسل اصرار پر حکومت آئل ریفائنریز سے مذاکرات کر رہی ہے، جنہوں نے مشکل حالات میں بھی ہزار گنا تک منافع کمایا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو کچھ ریلیف بھی ملا ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول پر موجودہ رعایت 1300 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے بھی بڑھائی جائے، جبکہ زرعی شعبے میں ڈیزل کے استعمال اور عوامی ٹرانسپورٹ کو بھی ریلیف دینے کا طریقہ وضع کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر عوامی مفاد میں فیصلے نہ ہوئے تو احتجاج کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمن نے ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی افراتفری جاری ہے اور مرکزی حکومت سمیت چاروں صوبائی حکومتیں عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں ہیں۔ فارم 47 کے ذریعے مسلط کیے گئے لوگ ملک میں بہتری نہیں لا سکتے۔ سندھ کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ 18 برس سے لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ کراچی جیسے شہر کو تباہ کر دیا گیا ہے، جو ملکی آمدن کا تقریباً نصف فراہم کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی پر میئر مسلط ہے، شہر میں سیوریج اور کچرے کے سنگین مسائل ہیں جنہیں صوبائی حکومت حل کرنے میں ناکام ہے۔ دنیا کے 173 شہروں کی فہرست میں رہائش کے اعتبار سے کراچی کا نمبر 170 ہے۔ جماعت اسلامی کے ٹاؤن ناظمین محدود وسائل کے باوجود اپنے علاقوں میں اسکول، پارکس اور سڑکیں تعمیر کر رہے ہیں، تاہم شہر کے بڑے مسائل کے حل کے لیے صوبائی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی نے امریکی وسط مدتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صہیونی لابی کی شکست دراصل فلسطینی عوام کی مزاحمت کی کامیابی ہے۔ امریکی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے طاقتور سرمایہ داروں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کا حوصلہ دکھایا، جس کا سبق انہوں نے اہلِ غزہ سے سیکھا، جنہوں نے ہزاروں شہادتوں کے باوجود استقامت کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے باوجود اسرائیل فلسطینیوں پر بمباری کر رہا ہے اور مغربی کنارے میں بھی صہیونی افواج نے مظالم کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، تاہم فلسطینی عوام اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان مظالم کے خلاف دنیا بھر کے حق پرستوں، بالخصوص اسلامی دنیا کو متحد ہونا چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمن نے اپنے دورہ ترکی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے اسلامی تحریکوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کا سرمایہ دارانہ نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور دنیا کو ایک متبادل نظام کی ضرورت ہے، جو ان کے بقول صرف اسلامی نظام فراہم کر سکتا ہے۔ فرقہ واریت سے پاک اسلامی تحریکوں کو اس مقصد کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں