پاکستان ریلوے کا زوال، 1949ء کے مقابلے میں آج انجنوں، مسافر کوچز اور مال بردار ویگنوں کی تعداد میں نمایاں کمی، قومی اثاثہ کس حال کو پہنچ گیا؟
پاکستان ریلوے کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق سامنے آنے والے اعداد و شمار قومی سطح پر تشویش کا باعث ہیں۔ 1949-50ء میں پاکستان کے ریلوے نظام کے پاس 1,248 انجن، 3,383 مسافر کوچز اور تقریباً 38 ہزار 820 مال بردار ویگنیں موجود تھیں، جبکہ آج ریلوے کے وسائل اور عملی استعداد میں نمایاں کمی دکھائی دیتی ہے۔
1949-50ء کی عالمی بینک کی دستاویز کے مطابق اس وقت پاکستان ریلوے کے پاس مجموعی طور پر 1,248 انجن تھے، جن میں سے 1,007 عملی طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اسی طرح 3,383 مسافر کوچز اور تقریباً 38,820 مال بردار ویگنیں ریلوے کے نظام کا حصہ تھیں۔
اس کے برعکس موجودہ قومی اسمبلی میں وزارتِ ریلوے کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ریلوے کے پاس اس وقت مجموعی طور پر 439 انجن موجود ہیں، جن میں سے اوسطاً 294 قابلِ استعمال جبکہ 145 غیر فعال ہیں۔
مسافر کوچز کی مجموعی تعداد 1,634 ہے، جن میں سے صرف 1,056 قابلِ استعمال ہیں، جبکہ 578 کوچز غیر فعال ہیں۔
اسی طرح مال بردار ویگنوں کی مجموعی تعداد 11,045 بتائی گئی ہے، جن میں سے 6,658 قابلِ استعمال جبکہ 4,387 غیر فعال ہیں۔
30 اکتوبر 2026ء کی صورتِ حال مزید تشویش ناک
تازہ ترین صورتِ حال میں 30 اکتوبر 2026ء کو وزیر ریلوے نے سینیٹ میں بتایا کہ پاکستان ریلوے کے مجموعی 439 انجنوں میں سے صرف 267 عملی حالت میں ہیں، جبکہ 172 انجن غیر فعال ہیں۔ یوں قومی اسمبلی میں پہلے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مقابلے میں قابلِ استعمال انجنوں کی تعداد مزید کم ظاہر ہوئی ہے۔
یہ اعداد و شمار کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتے ہیں کہ قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں موجود ریلوے کا وسیع نظام وقت گزرنے کے ساتھ اس قدر محدود کیوں ہوگیا؟ ریلوے کے انجن، مسافر کوچز اور مال بردار ویگنیں مسلسل کم اور غیر فعال کیوں ہوتی گئیں؟ اور اس قومی ادارے کی بحالی کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے؟
پاکستان ریلوے کبھی ملک کے زمینی سفری اور تجارتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا۔ آج اس کے بنیادی وسائل کی یہ صورتِ حال ادارے کی کارکردگی، انتظامی ترجیحات، سرمایہ کاری اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے۔
تفصیلی تحریر جلد۔۔۔
نوٹ: یہ خبر فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عالمی بینک کی 1949-50ء کی دستاویز اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں پیش کردہ جوابات کے اصل حوالہ جات اشاعت سے قبل ضرور منسلک کیے جائیں، خصوصاً 30 اکتوبر 2026ء کے اعداد و شمار کی تصدیق ضروری ہے۔