امریکی وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کو بڑا سیاسی دھچکا، ڈیموکریٹس کی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی پیش گوئی، اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اور فلسطین پالیسی میں تبدیلی کے امکانات پر نئی بحث شروع

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کو بڑا سیاسی دھچکا، ڈیموکریٹس کی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی پیش گوئی، اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اور فلسطین پالیسی میں تبدیلی کے امکانات پر نئی بحث شروع

واشنگٹن: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرکے کنٹرول واپس لینے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ انتخابی پیش رفت کو ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کے لیے اہم دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

ان نتائج کو ان حلقوں کے لیے بھی ایک اہم سیاسی پیغام قرار دیا جا رہا ہے جو مسلسل دو مرتبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیے جانے کو ان کی سفارتی کامیابی سمجھتے رہے ہیں۔ انتخابی نتائج نے امریکی سیاست میں نئی صف بندی اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر عوامی ردعمل سے متعلق بحث کو بھی تیز کر دیا ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹس کی ممکنہ کامیابی کے بعد یہ سوال بھی شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے سے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کی نوعیت بھی تبدیل ہوگی؟ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ میں شائع ہونے والے امی ایڈن کے تجزیے کے مطابق ٹرمپ کی سیاسی کمزوری اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

نیتن یاہو کو ٹرمپ کی حمایت نہ صرف امریکی سطح پر سفارتی تحفظ فراہم کرتی رہی ہے بلکہ اسرائیل کے اندر بھی ان کی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانے میں مددگار رہی ہے۔ تاہم کانگریس میں ڈیموکریٹس کی طاقت بڑھنے سے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی، فوجی امداد اور ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائیوں جیسے معاملات پر زیادہ سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی اسرائیل کے حوالے سے واضح اختلافات موجود ہیں۔ پارٹی کے بعض رہنما اسرائیل کے ساتھ روایتی قریبی تعلقات برقرار رکھنے کے حامی ہیں، جبکہ ترقی پسند اور بائیں بازو کے ارکان غزہ میں شہری ہلاکتوں، تباہی اور امریکی ہتھیاروں کے استعمال پر سخت مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

نئی کانگریس میں اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد پر شرائط عائد کرنے، اسلحے کی فروخت محدود کرنے اور امریکی امداد کے استعمال کی نگرانی سخت کرنے کی تجاویز سامنے آنے کا امکان ہے۔ تاہم ڈیموکریٹس کی بڑی اکثریت کا مطلب یہ نہیں کہ پوری جماعت اسرائیل مخالف پالیسی اختیار کر لے گی، کیونکہ پارٹی میں اعتدال پسند اور اسرائیل کے حامی ارکان کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔

تجزیے کے مطابق ڈیموکریٹس کی بھاری اکثریت اسرائیل کے ناقد ارکان کے سیاسی اثر کو کسی حد تک محدود بھی کر سکتی ہے۔ معمولی اکثریت کی صورت میں چند ارکان پوری جماعت کی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، لیکن بڑی اکثریت میں پارٹی قیادت کے پاس فیصلوں کے لیے زیادہ گنجائش ہوتی ہے۔

امریکہ کی اسرائیل نواز لابی ایپک (AIPAC) کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بھاری مالی وسائل اور انتخابی مہمات پر بڑی رقوم خرچ کرنے کے باوجود اسرائیل کے ناقد امیدواروں کی کامیابی کو نہیں روکا جا سکا۔ بعض انتخابی حلقوں میں ایپک کی حمایت کو امیدواروں کے خلاف سیاسی دلیل کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔

اس حوالے سے ایک اہم پہلو امریکی یہودی سیاست دانوں کے درمیان اختلافات بھی ہیں۔ یہودی شناخت رکھنے والے تمام امریکی رہنما اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کے حامی نہیں۔ اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید دو الگ معاملات ہیں، اسی طرح اسرائیلی حکومت کی مخالفت کو یہودیوں سے تعصب قرار دینا بھی درست نہیں۔

فلسطین اور ایران کے لیے بھی امریکی انتخابات کے نتائج غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ فلسطینیوں کے حوالے سے بنیادی سوال یہ ہوگا کہ کیا نئی کانگریس اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی پر پابندیاں عائد کرنے، غزہ میں انسانی امداد کی رسائی بہتر بنانے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کی حمایت کرے گی؟

ایران کے معاملے میں بھی نئی کانگریس کا کردار اہم ہوگا۔ امریکی ووٹرز میں ایران کے خلاف جنگ، بڑھتے اخراجات اور مہنگائی پر ناراضی کو ریپبلکنز کی شکست کی اہم وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں اور سفارتی مذاکرات کے حوالے سے بھی ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

تاہم کانگریس میں اکثریت تبدیل ہونے سے امریکی خارجہ پالیسی فوری طور پر تبدیل نہیں ہو جاتی۔ صدر کے اختیارات، کانگریس کی قانون سازی اور فوجی و سفارتی اداروں کے فیصلے مل کر امریکی پالیسی کی سمت طے کرتے ہیں۔

امریکی انتخابات کے نتائج نے ایک طرف صدر ٹرمپ کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کیا ہے تو دوسری جانب اسرائیل کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات، فلسطین کے مستقبل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی حکمت عملی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ ڈیموکریٹس کانگریس میں حاصل ہونے والی کامیابی کو محض سیاسی برتری تک محدود رکھتے ہیں یا اسے امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا ذریعہ بھی بناتے ہیں۔

واضح رہے کہ 4 نومبر 2026 کے انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں کا کنٹرول حاصل کر چکے ہیں، جس سے صدر ٹرمپ کی آئندہ دو سالہ مدتِ صدارت میں انہیں قانون سازی، حکومتی نگرانی اور انتظامیہ کے احتساب کے حوالے سے بڑی سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ Reuters +2

یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور یروشلم پوسٹ کے تجزیے کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں