ڈسکہ: ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ، ایک شخص جاں بحق، 18 زخمی، مسٹر پتلو سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج، 6 گرفتار
ڈسکہ (سیالکوٹ) معروف ٹک ٹاکر مسٹر پتلو المعروف انصر جٹ کی مہندی کی تقریب کے دوران فراز اسٹیڈیم میں شدید بھگدڑ مچنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ 18 افراد زخمی ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب ڈسکہ روڈ پر واقع فراز اسٹیڈیم میں منعقد کی گئی تھی، جہاں انعامی قرعہ اندازی کے سلسلے میں بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ تقریب میں 50 موٹر سائیکلیں، ایک گاڑی اور دیگر قیمتی انعامات دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔
عینی شاہدین اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق اسٹیڈیم کے داخلی دروازے کھلتے ہی لوگوں نے بیک وقت اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے باعث دھکم پیل شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بھگدڑ مچ گئی۔ ہجوم کے دباؤ سے متعدد افراد زمین پر گر کر زخمی ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ اسپتال سیالکوٹ منتقل کیا، جہاں 30 سالہ عقیل ولد بشیر احمد دورانِ منتقلی دم توڑ گیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مسٹر پتلو سمیت 9 نامزد افراد اور 40 سے 45 نامعلوم سکیورٹی گارڈز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جبکہ 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں تقریب کے دوران حفاظتی انتظامات اور اجازت نامے کی شرائط کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ واقعے کے باعث ڈسکہ سیالکوٹ روڈ پر ٹریفک بھی متاثر ہوئی جبکہ ہنگامہ آرائی کے دوران شہری املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔


پاکستان میں ایک صاحب ہیں محمد انصر جٹ المعروف مسٹر پتلو، ان کی آج سرفراز کرکٹ گراؤنڈ ڈسکہ روڑ سیالکوٹ میں مہندی تھی، اب ایسے کانٹینٹ کریئٹر کو خوب پتہ ہوتا ہے کہ کسی بھی ایونٹ کو سوشل میڈیا ٹرینڈ کیسے بنانا ہے، پتلو جی نے اعلان کر دیا کہ مہندی میں 50 بائکس، ایک کار اور 50 لاکھ روپے تک نقد انعامات سمیت فریج وغیرہ بھی بذریعہ لکی ڈرا نکالے جائیں گے، اب پاکستان میں دو وقت کی روٹی سے تنگ عوام کے لیے یہ اعلان دنیا میں جنت ملنے جیسا تھا، شہری لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ سمیت مختلف علاقوں سے اتنے پہنچ گئے کہ تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی، اب جب انتظامیہ نے دروازہ کھولا تو بندے کے اوپر بندہ اور اس کے اوپر ایک اور بندہ اور اس کے اوپر مزید کئی بندوں کی تہہ بن گئی، ڈسکہ کا ایک 30 سالہ نوجوان محمد عقیل جان سے گیا، 15 سے زائد زخمی ہوگئے، اس صورتحال میں ایسے ٹک ٹاکرز بھائی کی چاندی ہوگئی جو پہلے الٹے سیدھے اعلانات کرتے رہے اور اتنے لوگ آگئے، اب زخمیوں کا انٹرویو کرکے اپنا کانٹینٹ سیدھا کرکے ان کی ذات پر احسان کر رہے ہیں، اب اگر پتلو جی کے وزیر اطلاعات صاحب سے تعلقات کو نظر انداز کرتے ہوئے میڈم وزیراعلی اس کو شادی کی رات حوالات کا منہ دکھا دیں اور نوجوان کے قتل کا مقدمہ اس کے خلاف درج کر دیں تو ایسوں کو آئندہ سے نصیحت ضرور ہو جائے گی