کامرا میں پاکستان کے فضائی و دفاعی مستقبل کی جھلک، ایرو اسپیس سٹی اور نیسٹیپ کا دورہ، خود انحصاری کے لیے اہم منصوبوں پر بریفنگ

کامرا میں پاکستان کے فضائی و دفاعی مستقبل کی جھلک، ایرو اسپیس سٹی اور نیسٹیپ کا دورہ، خود انحصاری کے لیے اہم منصوبوں پر بریفنگ

پاکستان ایئر فورس کے سابق افسران کے ایک وفد نے 29 اکتوبر 2026 کو کامرا میں ایرو اسپیس سٹی اور نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP) کا دورہ کیا، جہاں انہیں پاکستان کی دفاعی ٹیکنالوجی، جدید تحقیق، مقامی پیداوار اور خود انحصاری کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

دورے کے شرکاء کے مطابق تقریباً 10 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ایرو اسپیس سٹی ایک وسیع منصوبہ ہے، جس میں اپنا رن وے، ڈیزائننگ کمپلیکس، جدید انجینئرنگ، مینوفیکچرنگ اور تحقیق و ترقی کے مراکز شامل ہیں۔

وفد نے مختلف ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ مراکز اور پیداواری یونٹس کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر نوجوان پاکستانی انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اعتماد اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کو سراہا گیا۔

ایرو اسپیس سٹی میں ایئر یونیورسٹی کا کیمپس بھی فعال ہے، جہاں ایرو اسپیس اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق شعبوں میں تعلیم اور تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔

ایئر چیف مارشل سے سابق افسران کی خصوصی ملاقات

دورے کے اختتام پر چیف آف ایئر اسٹاف نے پاکستان ایئر فورس کے تقریباً 20 ریٹائرڈ افسران سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چیف آف ایئر اسٹاف نے 140 منٹ سے زائد طویل غیر رسمی نشست میں فضائیہ کے مستقبل، دفاعی ٹیکنالوجی، تحقیق، انسانی وسائل اور ملکی دفاع سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سابق افسران کے مطابق ایئر چیف نے تحقیق و ترقی کے شعبے میں نوجوانوں کی عملی صلاحیتوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت کی اہمیت پر زور دیا اور بتایا کہ ایم ایس کوالیفکیشن کے حامل 495 گریجویٹس پہلے ہی تحقیق و ترقی کے منصوبوں سے وابستہ ہیں۔

ایران سے خود انحصاری اور اسرائیلی فضائیہ سے تکنیکی برتری کا سبق

ملاقات میں ایران کی جانب سے مشکلات اور پابندیوں کے باوجود مقامی دفاعی صلاحیتیں ترقی دینے کی کوششوں کو بھی مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔

ایئر چیف نے اسرائیلی فضائیہ کی محدود طیاروں کی تعداد کے باوجود خطے میں نمایاں آپریشنل اثرانداز ہونے کی صلاحیت کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان ایئر فورس کو زیادہ مؤثر، جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل فضائیہ بنانے کے وژن پر بھی گفتگو کی۔

اس موقع پر موجودہ طیاروں کے بیڑے کو مزید مؤثر اور ضروریات کے مطابق ترتیب دینے کے حوالے سے بھی خیالات کا اظہار کیا گیا۔

دفاعی صنعت میں نجی شعبے کی شمولیت پر زور

ایئر چیف نے دفاعی صنعت میں نجی شعبے کی بامعنی شمولیت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبے کو ملکی صنعتی اور تکنیکی ترقی میں برابر کا شراکت دار بنایا جائے۔

انہوں نے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP) کو اس سمت میں اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے پاکستان بھر میں ایسے آٹھ مراکز قائم کرنے کے وژن سے آگاہ کیا، تاکہ ملک کے تمام علاقوں میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی ترقی کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

اسکواڈرن نمبر 15 کا دورہ، جے 10 سی طیاروں کا معائنہ

وفد کو کامرا ایئر بیس پر پاکستان ایئر فورس کے تاریخی اسکواڈرن نمبر 15 کا دورہ بھی کرایا گیا، جو جے 10 سی لڑاکا طیارے آپریٹ کرتا ہے۔

اسکواڈرن نے بھارت کے رافیل طیاروں کے ساتھ فضائی معرکے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وفد نے اسکواڈرن کی جدید رہائشی اور پیشہ ورانہ سہولیات کا بھی جائزہ لیا اور ستارۂ جرأت حاصل کرنے والے اسکواڈرن کمانڈر سے ملاقات کی۔

ملٹی ڈومین آپریشنز نیٹ ورک پر بھی بریفنگ

دورے کے دوران وفد کو ملٹی ڈومین آپریشنز نیٹ ورک کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ اس نظام کو روایتی فضائی دفاعی تصور میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا، جس کے تحت مختلف آپریشنل شعبوں کی صلاحیتوں اور معلومات کو مربوط انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔

دورے میں شریک سابق فضائی افسران نے کامرا میں جاری منصوبوں، جدید انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور نوجوان ماہرین کی صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ضرور ہے، تاہم ایرو اسپیس سٹی اور نیسٹیپ جیسے منصوبے ملکی دفاعی اور تکنیکی خود انحصاری کے حوالے سے امید افزا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئر فورس کی جانب سے ریٹائرڈ افسران کو اپنے ادارے کی ترقی کے سفر میں شریک رکھنا قابل تحسین ہے اور ریٹائرمنٹ کے باوجود فضائیہ کے ساتھ ان کا تعلق ایک خاندان کی طرح برقرار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں