نوشکی گرلز ڈگری کالج پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ سے تین طالبات زخمی، صوبائی حکومت علاج کے اخراجات برداشت کرے گی
نوشکی کے گرلز ڈگری کالج میں مسلح افراد کی فائرنگ اور توڑ پھوڑ کے واقعے میں تین طالبات زخمی ہوگئیں، جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے کالج میں فائرنگ کرنے کے ساتھ توڑ پھوڑ بھی کی اور وہاں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو ناکارہ بنا دیا۔ واقعے کے بعد زخمی طالبات کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور محکمہ داخلہ کے معاون بابر یوسفزئی زخمی طالبات کی عیادت کے لیے نجی ہسپتال پہنچے، جہاں انہوں نے طالبات کی خیریت دریافت کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ زخمی طالبات کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کے علاج معالجے کے تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبات نے مشکل حالات میں جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کیا، تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا کر دشمن ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتا۔
دوسری جانب معاون برائے محکمہ داخلہ بابر یوسفزئی نے دعویٰ کیا کہ نوشکی گرلز ڈگری کالج پر حملے میں فتنۃ الہندوستان کے سہولت کار ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے اور حکومت زخمی طالبات کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
واقعے کے بعد تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی اور حملے میں ملوث افراد کی شناخت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ تاہم حملے کے محرکات اور ملزمان سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔