اسلام آباد میں تعینات نوجوان سرکاری افسر کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر نیا موڑ، سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے آنے کے بعد واقعے سے متعلق مختلف دعوؤں پر سوالات اٹھ گئے۔
ذرائع کے مطابق ایک خاتون نے دو نوجوانوں، جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا، کے ہمراہ کازانی ہائٹس میں Airbnb کے ذریعے کمرہ بک کیا تھا۔ واقعے کی مبینہ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں خاتون کو لڑکھڑاتے ہوئے دو نوجوانوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے، تاہم دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتون متعلقہ فلیٹ کے اندر داخل نہیں ہوئی۔
فوٹیجز سے متعلق فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پولیس اہلکار مبینہ طور پر نشے کی حالت میں غلطی سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کے ایک نوجوان افسر کے فلیٹ میں داخل ہوگیا۔ فلیٹ کے اندر ایک فیملی کو دیکھ کر نوجوان فوری طور پر باہر نکل آیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجنبی نوجوان کو اچانک فلیٹ میں داخل ہوتے دیکھ کر افسر کی فیملی خوف زدہ ہوگئی اور واقعے کے فوری بعد پولیس ایمرجنسی نمبر 15 پر اطلاع دی گئی۔
پولیس نے مبینہ طور پر ہوٹل انتظامیہ کی ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر رہائش حاصل کرنے کے معاملے پر تینوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جبکہ کرایہ داروں کی رجسٹریشن سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر ہوٹل انتظامیہ کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا۔
دوسری جانب سرکاری افسر کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر بے بنیاد الزامات اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی مہم چلانے والے اکاؤنٹس کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔ پولیس اہلکار کے خلاف محکمانہ کارروائی کے لیے متعلقہ حکام سے بھی رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوٹ: واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیجز کی آزادانہ تصدیق اور تمام فریقین کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔ اس لیے الزامات اور ابتدائی معلومات کو حتمی ثابت شدہ حقائق کے بجائے متعلقہ ذرائع سے منسوب کیا جانا چاہیے۔