شہباز شریف اور حافظ نعیم الرحمان کی ملاقات کا ایجنڈا طے کرنے کے لیے جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹی کے مذاکرات، وزیراعظم سے فوٹو سیشن نہیں عوامی ریلیف کا مطالبہ کریں گے: لیاقت بلوچ
اسلام آباد: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ایک ہفتے کے اندر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کریں اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم لیوی میں کمی کا اعلان کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملاقات محض فوٹو سیشن تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے اقدامات سامنے آنے چاہئیں۔
23 اکتوبر 2026 کو پٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت سے مذاکرات بھی جاری رکھے گی اور احتجاج کا راستہ بھی ترک نہیں کرے گی۔ حکومت اور جماعت اسلامی نے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
اس سے قبل پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ جماعت اسلامی کی کمیٹی کی سربراہی لیاقت بلوچ نے کی، جبکہ دیگر ارکان میں ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری اور امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی عنایت اللہ خان شامل تھے۔
حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے مذاکرات میں شرکت کی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی عوام کو ریلیف دلانے کے لیے تحریک جاری ہے۔ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر دھرنے اور احتجاج کیے گئے، جس کے بعد کراچی سے ملتان تک ٹرین مارچ بھی کیا گیا۔ ان کے مطابق ٹرین مارچ ملتان پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے رابطہ کیا اور ان کی درخواست پر لانگ مارچ مؤخر کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آج حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کا مقصد وزیراعظم سے ملاقات سے قبل دونوں فریقین کے درمیان معاملات طے کرنا ہے تاکہ ملاقات میں عوامی ریلیف کے حوالے سے ٹھوس پیش رفت ہو سکے۔
پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسوں کا معاملہ
نائب امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ اس وقت پٹرول کی اصل قیمت 242 روپے 66 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 246 روپے 80 پیسے فی لیٹر ہے۔ ان کے مطابق حکومت فی لیٹر پٹرول پر ٹیکسوں کی مد میں 162 روپے اضافی وصول کر رہی ہے، جبکہ ڈیزل پر یہ رقم 148 روپے ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں 1,568 ارب روپے حاصل کیے گئے ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت کو بتایا گیا ہے کہ ناگزیر اخراجات کے علاوہ عائد دیگر ٹیکس عوام پر بوجھ ہیں۔ انہوں نے موٹرسائیکلوں اور رکشوں کے لیے ریلیف کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دیگر گاڑیوں کے مالکان کو بھی ریلیف دیا جائے۔
آئی پی پیز اور بینکوں کے معاملات پر بھی تحفظات
لیاقت بلوچ نے بینکوں کے کرنٹ اکاؤنٹس میں موجود رقوم کے استعمال، حکومت کی جانب سے قرض لینے اور بینکوں کو سود کی ادائیگی کے معاملات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بینک عوام کو ان کی رقوم پر مناسب منافع نہیں دیتے، جبکہ آئی پی پیز کے معاملے میں بھی تاخیری حربے اختیار کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنے اخراجات اور مراعات کم کرنے کے لیے تیار نہیں اور پٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت آئی ایم ایف اور عوام، دونوں کو گمراہ کر رہی ہے۔
دو سے تین روز میں تکنیکی کمیٹی کا اجلاس
لیاقت بلوچ کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت کے لیے تین رکنی تکنیکی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور ڈپٹی سیکرٹری جماعت اسلامی سید فراست شاہ شامل ہیں۔ یہ کمیٹی آئندہ دو سے تین روز میں اجلاس منعقد کرکے معاملات کا جائزہ لے گی۔
جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں ریلیف دلانے کے لیے احتجاجی تحریک بھی جاری رکھی جائے گی۔