لاہور میں سید شاہ محمد غوث محدثِ کبیرؒ کی زیارت کی منتقلی یا انہدام کا فیصلہ واپس لیا جائے، پشاور میں سادات گھرانے کا مطالبہ
پشاور: شہر کے معروف سادات گھرانے کے گدی نشین سید سلطان آغا باچا، تاجی آغا باچا، سابق صوبائی وزیر صحت سید ظاہر علی شاہ اور دیگر رہنماؤں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لاہور میں سید شاہ محمد غوث محدثِ کبیرؒ کی زیارت کو منتقل کرنے یا منہدم کرنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور مقدس مزارات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ اولیائے کرام کے مزارات اور مقدس مقامات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے بقول زیاراتِ مقدسہ اور مساجد کو منہدم یا منتقل کرنا درست نہیں، اس لیے پنجاب حکومت اس معاملے پر نظرثانی کرے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور میں واقع مذکورہ زیارت تقریباً ڈھائی سو سال پرانی ہے اور پنجاب کے متعلقہ قانون کے تحت اسے قانونی تحفظ بھی حاصل ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تاریخی اور مذہبی اہمیت کے حامل اس مقام کی حفاظت کرے اور اس کی منتقلی یا انہدام سے گریز کرے۔
پریس کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ زیارت کے اطراف اور سامنے ایسی جائیدادیں موجود ہیں جنہیں حکومت خرید کر سڑک کی توسیع کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ اگر سڑک کو کشادہ کرنا ضروری ہے تو ایسا متبادل منصوبہ بنایا جائے جس سے مقدس مقام کی حرمت اور تاریخی حیثیت متاثر نہ ہو۔
رہنماؤں نے مزید کہا کہ کشمیر، پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا سمیت مختلف علاقوں میں اہلِ سنت کے حلقوں میں پنجاب حکومت کے اس فیصلے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مذہبی جذبات اور تاریخی ورثے کو مدنظر رکھتے ہوئے زیارت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
سادات گھرانے کے نمائندوں نے واضح کیا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ زیارت کی منتقلی یا انہدام سے متعلق فیصلہ واپس لے کر ایسا قابلِ عمل متبادل اختیار کیا جائے جس سے ترقیاتی منصوبہ بھی آگے بڑھے اور مقدس مقام بھی محفوظ رہے۔