خواتین کو سوشل میڈیا پر بلیک میل کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ، متاثرین کو تحفظ اور فوری انصاف فراہم کرنے پر زور
اسلام آباد: خواتین کو سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہراساں کرنے، بلیک میل کرنے اور نجی تصاویر و ویڈیوز کے غلط استعمال میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی ناگزیر قرار دی جا رہی ہے۔ سائبر جرائم کی بڑھتی ہوئی شکایات کے تناظر میں متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔
آن لائن بلیک میلنگ میں ملوث عناصر مبینہ طور پر واٹس ایپ، جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرتے ہوئے خواتین کو دھمکیاں دیتے اور ذاتی معلومات یا نجی تصاویر و ویڈیوز کی بنیاد پر ناجائز مطالبات منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے واقعات متاثرہ خواتین کی نجی زندگی، عزتِ نفس اور ذہنی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سائبر کرائم کی شکایات پر فوری کارروائی، ڈیجیٹل شواہد کا تحفظ اور ملزمان کی قانونی طریقے سے شناخت یقینی بنائی جائے۔ جرم ثابت ہونے پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے، جبکہ متاثرین کی شناخت اور نجی معلومات کو بھی مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
ماہرین اور عوامی حلقوں کے مطابق متاثرہ خواتین کو خوف یا دباؤ کے باعث بلیک میلرز کے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے متعلقہ پیغامات، اکاؤنٹس کی تفصیلات، لنکس اور دیگر دستیاب شواہد محفوظ رکھنے چاہییں۔ انہیں مزید نجی تصاویر یا معلومات فراہم کرنے سے گریز کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے قانونی معاونت حاصل کرنی چاہیے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے آگاہی مہم مؤثر بنائی جائے، شکایات کے اندراج اور تحقیقات کے عمل کو آسان بنایا جائے اور متاثرہ خواتین کو قانونی معاونت فراہم کی جائے، تاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بلیک میلنگ اور ہراسانی کے لیے استعمال کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
نوٹ: اس خبر میں نیشنل سائبر کرائم ونگ کی کسی مخصوص کارروائی، گرفتاری یا مقدمے کی تصدیق شدہ تفصیل شامل نہیں، اس لیے اسے کسی تازہ کارروائی کی رپورٹ کے بجائے سائبر جرائم کے خلاف اقدامات کے مطالبے پر مبنی خبر کے طور پر مرتب کیا گیا ہے۔