ساہلیاں طالبہ زیادتی کیس۔

ساہلیاں طالبہ زیادتی کیس۔
چودہ سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی طور پہ یہ پتا چلا ہے کہ لڑکی کو دن کے وقت اسکے کزن نے کہا کہ تمہیں تمہارے ابو بلا رہے ہیں ، لڑکی ابو سے ملنے کی غرض سے لڑکے کے ساتھ چل دی ،
گھر سے کافی دور جا کے لڑکے نے لڑکی کو زیادتئ کا نشانہ بنایا اور کئی بار اس سے زیادتی کر کے جب رات گہری ہوئی تو لڑکی کو جنگل میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔
لڑکی جنگل سے گرتی سنبھلتی کسی گھر یا سہارے کی تلاش میں ٹھوکریں کھاتی ایک روشنی کی طرف چل دی اور جیسے ہی روشنی کے قریب پہنچی تو سہمی ہوئی لڑکی کو کچھ حوصلہ ہوا کہ کوئی گھر ہے یہاں اسکی دادرسی کر کے اسے اسکے گھر تک پہنچایا جائے گا لیکن جیسے ہی لڑکی نی دروازہ کھٹکایا تو اندر سے ایک بزرگ باہر آئے اور لڑکئ کو سہارا دیا اور اسکی پوری آب بیتی سنی۔ اس بزرگ نے لڑکی کو سہارا دیتے ہوئے گھر کے اندر بلایا چار و ناچار لڑکی ایک ستم سے گزر چکی تھی اسے کیا معلوم تھا کہ آگے ایک اور دردندہ اسکی عزت کو تار تار کرنے والا ہے۔
بزرگ نے لڑکی کو پانی وغیرہ پلایا اور باتوں باتوں میں اس کے نزدیک ہو کے وہی کام کر دیا جو اسکا کزن اسکے ساتھ اسی رات کئی بار کر چکا تھا۔ لڑکی نے م

دھیرکوٹ ساہلیاں میں کمسن بچی کے ساتھ ہونے والی درندگی صرف قابلِ مذمت نہیں، بلکہ شدید ترین برہمی اور اشتعال کا باعث ہے۔ ہمارا واضح اور سخت مطالبہ ہے کہ اس وحشیانہ فعل میں ملوث مجرموں کو ایسی عبرتناک اور کڑی سزا دی جائے کہ آئندہ کسی بھی درندے کو ایسی حیوانیت کی جرأت نہ ہو سکے!

کسی قسم کی رعائت نہیں۔
#RightsMovementAJK

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں