حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات بے نتیجہ، لانگ مارچ کل شروع کرنے کا اعلان

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات بے نتیجہ، لانگ مارچ کل شروع کرنے کا اعلان

اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا، فریقین کے درمیان دہشت گردی کے معاملے، خیبرپختونخوا حکومت کے وفاق سے تعاون، عمران خان سے ملاقات اور علاج سمیت دیگر امور پر اختلافات برقرار رہے۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں اصل اختلاف دہشت گردی کے خلاف حکومتی اقدامات اور خیبرپختونخوا حکومت کے وفاق سے تعاون کے معاملے پر رہا۔ امیر مقام نے کہا کہ مذاکرات کسی بھی وقت دوبارہ ہوسکتے ہیں، تاہم پی ٹی آئی دہشت گردی سے متعلق معاملات پر حکومت کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرسکی۔

شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ دو روز کے دوران ملک کو انتشار سے بچانے کے لیے مسلسل مذاکرات کی کوشش کی اور مستقل مزاجی کے ساتھ تحریک انصاف سے بات چیت جاری رکھی۔

رانا ثناء اللہ کے مطابق عمران خان سے ملاقات اور علاج کی سہولیات مذاکرات میں نسبتاً چھوٹے معاملات تھے، اصل مسئلہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ صوبائی حکومت کا تعاون تھا، جس پر تحریک انصاف تعاون کے لیے تیار نہیں ہوئی۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کی ناکامی کے بعد کل لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا اور وفاقی حکومت کی جانب سے ممکنہ ایمرجنسی یا دیگر اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا۔

پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے بھی کہا کہ مذاکرات کے دوران عمران خان سے ملاقات، علاج، دہشت گردی، نیشنل ایکشن پلان اور دیگر معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ ان کے مطابق وفاق کی پالیسیوں کے باعث صوبہ طویل عرصے سے بدامنی کا شکار ہے۔ انہوں نے ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان میں عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔

سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں پالیسی عمران خان کی ہوگی اور اسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔

حکومتی حلقوں کی جانب سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ اگر تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا راستہ اختیار کیا تو حکومت سخت آئینی و انتظامی اقدامات پر غور کرسکتی ہے، تاہم گورنر راج سے متعلق حتمی فیصلہ حکومتی سطح پر کیا جائے گا۔

یوں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے باوجود بنیادی اختلافات برقرار ہیں اور سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں