اٹک پل پر تعینات پولیس اہلکاروں کی مشکلات، ناقص کھانے اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کی شکایات سامنے آگئیں، سوشل میڈیا پر پولیس کے مورال اور سائبر کرائم کارروائی نہ ہونے پر بھی سوالات
اٹک: تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر پنجاب پولیس اور دیگر مقامات پر تعینات سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی مشکلات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔ ایک طرف پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کا مورال گرانے کے لیے منظم سوشل میڈیا مہم چلانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب پولیس اہلکاروں کو ناقص کھانا، واش رومز کی کمی، آرام کے مناسب انتظامات نہ ہونے اور طویل ڈیوٹیوں جیسے مسائل کا سامنا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے تقریباً 65 ہزار پولیس اہلکاروں کو احتجاج سے نمٹنے کے لیے مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے، جہاں انہیں بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض ویڈیوز میں اہلکاروں کی جانب سے کھانے کے معیار، پینے کے پانی اور آرام کے انتظامات پر شکایات کی جا رہی ہیں۔
حسن ابدال میں ڈیرہ غازی خان سے تقریباً 700 کلومیٹر کا سفر کرکے آنے والے ایک پولیس اہلکار کی وفات کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے، تاہم واقعے کی وجہ اور حالات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ڈاکٹر عبد الودود قریشی نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کروڑوں روپے خرچ کیے، لیکن لوگوں نے فوری طور پر اس کا توڑ نکال لیا۔ ان کے مطابق اصل حل عوام پر اعتماد، احترام، انصاف، آئین اور قانون کی بالادستی میں ہے۔ قوانین خواص کے بجائے عوامی مفاد کے لیے بنائے جائیں، ووٹ کو عزت دی جائے اور عوام کے خلاف مدافعتی اسلحے کے استعمال کے بجائے معاشرتی علوم اور کتابوں کو فروغ دیا جائے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے تحریک انصاف پر پنجاب پولیس اور دیگر مقامات پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کا مورال گرانے کے لیے منظم مہم چلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور سائبر کرائم حکام کی جانب سے مبینہ مہم روکنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
پولیس اہلکاروں کی مبینہ مشکلات سے متعلق ویڈیوز اور پوسٹس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ تعینات اہلکاروں کو معیاری کھانا، صاف پانی، واش رومز، مناسب آرام اور بہتر رہائشی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
واضح رہے کہ پولیس اہلکاروں کی تعداد، ناقص کھانے، سہولتوں کی کمی اور اہلکار کی وفات سے متعلق سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے دعوؤں کی متعلقہ حکام سے آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔









