وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب، کشمیر، فلسطین اور حرمین شریفین کے تحفظ پر دوٹوک مؤقف
اسلام آباد مذاکرات پاکستان کی عملی امن کاوشوں کا مظہر ہیں، حرمین شریفین کا تحفظ ریڈ لائن ہے، بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا، پانی روکنا جنگی اقدام تصور ہوگا، آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے، وزیراعظم کا 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب
اقوام متحدہ (نیویارک): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے مکالمے، جبر کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کیا ہے، عالمی اعتماد کی بحالی اور پائیدار امن کے لیے کشمیر، فلسطین اور مشرق وسطیٰ سمیت تمام تنازعات کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔ قرآن پاک کا پیغام امن پاکستان کے لیے مشعل راہ ہے، حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا ایک خطرناک دور سے گزر رہی ہے، تاہم مستقبل پہلے سے طے شدہ نہیں، جنگ اور امن دونوں انتخاب ہیں اور بعض اوقات سب سے بڑی بہادری جنگ شروع کرنے کے بجائے اسے روکنے میں ہوتی ہے۔ عالمی برادری موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے امن کا انتخاب کرے۔
وزیراعظم نے کہا کہ میزائلوں، ڈرونز اور بندوقوں کی گھن گرج کے درمیان سفارت کاری کی آواز مزید بلند ہونی چاہیے۔ پاکستان نے عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ مذاکرات اور تعاون سے پیچیدہ تنازعات کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے سورۃ الانفال کی آیت 61 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ اگر مخالف فریق صلح کی طرف مائل ہو تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ۔ یہی تعلیمات پاکستان کے قومی تشخص اور داخلی و خارجی طرز عمل کی رہنما ہیں۔
### بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا، کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان کو بلاجواز بیرونی حملے کا سامنا کرنا پڑا، جس پر پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور درست حکمت عملی کے ساتھ دشمن کے حملے پسپا کیے۔
وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششیں ایسے فیصلہ کن موقع پر سامنے آئیں جب دو جوہری ہمسایہ ممالک وسیع جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ ایسی خطرناک صورتحال سے بچانے کے لیے جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ضروری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری عوام آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی قبضے، من مانی حراست، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزاؤں کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبادیاتی تبدیلیوں کے ذریعے جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ کشمیری مائیں اور باپ اپنے ان بچوں کی واپسی کے منتظر ہیں جو کبھی لوٹ کر نہیں آتے، جبکہ کئی خاندانوں کی زندگیاں بے نام قبروں کی تلاش میں گزر جاتی ہیں۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول تک ان کی مکمل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
### پانی روکنا جنگی اقدام ہوگا، سندھ طاس معاہدہ برقرار ہے
وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے کہا کہ بھارت کا معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ قانونی بنیاد سے محروم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین اور ثالثی عدالت کے مؤقف نے پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر اور فریقین کے لیے پابند ہے۔
وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے، اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی۔
### اسلام آباد مذاکرات پاکستان کی عملی امن کاوشوں کا مظہر ہیں
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی صدارت میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ میں تنازعے کے باعث انسانی جانوں، معیشتوں اور اہم بحری راستوں، بالخصوص آبنائے ہرمز، کو شدید نقصان پہنچا۔
اس نازک موقع پر پاکستان نے فوری عملی اقدامات کیے اور مسلسل سفارتی کوششوں کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ایک میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔
وزیراعظم کے مطابق اسلام آباد مذاکرات سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک تنازعے کے خاتمے کے لیے تاریخی اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے سفارت کاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششوں کو سراہا۔
شہباز شریف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں اور ان بحری راستوں کو کھلا رہنا چاہیے تاکہ یہ قوموں کو جوڑنے اور خوشحالی کا ذریعہ بنیں۔
### حرمین شریفین کا تحفظ ریڈ لائن، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی
وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں اور مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کو کوئی خطرہ ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے کے دفاع، استحکام اور امن کے لیے اجتماعی عزم قرار دیا اور واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں۔
### آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر، غزہ کے بچوں کو بھی مستقبل کا حق ہے
فلسطین کی صورتحال پر وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام، بالخصوص خواتین، بچے اور بزرگ، نسلوں سے قبضے، بے دخلی اور تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے ہند رجب کے بعد آٹھ سالہ وفا عقیلہ کے المیے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس دن اسے اسکول جانا تھا، وہی اس کی زندگی کا آخری دن بن گیا۔
وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا غزہ کا بچہ دنیا کے دوسرے بچوں کی طرح زندگی اور مستقبل کا حق نہیں رکھتا؟
انہوں نے کہا کہ فلسطینی بچوں کے سانحات عالمی خاموشی اور بے عملی کے خلاف فرد جرم ہیں۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی تشدد اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی پر بھی تشویش ہے۔
شہباز شریف نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
انہوں نے لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
### دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں فراموش نہ کی جائیں
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانی دے چکا ہے اور 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور شہریوں کی قربانیوں کو امن پسند دنیا کبھی فراموش نہ کرے۔
وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی افغانستان میں موجود پناہ گاہوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔
انہوں نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں اور قابل تصدیق و فیصلہ کن اقدامات کریں تاکہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
شہباز شریف نے افغان عوام، بالخصوص خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کے احترام پر بھی زور دیا۔
اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی مرد و خواتین کئی دہائیوں سے شہریوں کے تحفظ اور تنازعات سے متاثرہ ممالک میں امن کی بحالی کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں، جن کی قربانیوں پر پوری قوم کو فخر ہے۔
### اسلاموفوبیا اور مذہبی نفرت کے خاتمے کا مطالبہ
وزیراعظم نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مساجد پر حملوں اور قرآن کریم کی بے حرمتی پر شدید تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے بھارت میں آر ایس ایس سے وابستہ ہندوتوا نظریے کے تحت مذہبی نفرت اور تشدد کا ذکر کرتے ہوئے سہارنپور میں 150 سال پرانی مسجد کے انہدام کی مثال دی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں مذہبی نفرت اور تعصب کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق اور مذہبی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
### معاشی بحالی، نوجوانوں کی تربیت اور عالمی مالیاتی اصلاحات ضروری
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاشی بحالی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اصلاحات و مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے معاشی استحکام بحال کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت اور صنعت میں جدت، معدنی وسائل کی ترقی، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کی تربیت دینے پر کام جاری ہے۔
وزیراعظم نے سی پیک اور خلیجی و وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے چین کے صدر شی جن پنگ کے عالمی ترقی، سلامتی، تہذیب اور حکمرانی کے اقدامات کو سراہا۔
انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے بروقت قرضوں میں ریلیف، مناسب طویل مدتی مالی معاونت اور عالمی مالیاتی اداروں میں زیادہ مؤثر نمائندگی کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر ترقی کو سلامتی جتنی توجہ ملنی چاہیے اور ترقی پذیر ممالک کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
### موسمیاتی انصاف اور اقوام متحدہ میں منصفانہ اصلاحات پر زور
وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود بار بار تباہ کن موسمیاتی اثرات کا سامنا کرتا ہے۔
انہوں نے ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ موسمیاتی مالی معاونت کے وعدے پورے کریں، نقصانات کے ازالے اور متاثرہ ممالک کی تیاری و بحالی کے لیے تعاون فراہم کریں۔
شہباز شریف نے کہا کہ اعتماد صرف الفاظ سے بحال نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات سے حاصل ہوتا ہے۔ اعتماد اس وقت بحال ہوگا جب دریا تعاون کا ذریعہ بنیں، موسمیاتی بحران کے ذمہ دار ممالک متاثرین کی مدد کریں اور بندوقوں کی جگہ مکالمہ اور تعاون لے۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے 80ویں سال کے اقدام (یو این 80) کے ذریعے عالمی ادارے کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے اور سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری اور جوابدہ بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحات رکن ممالک کی اکثریت کے مفادات کی عکاس ہونی چاہئیں۔ پاکستان کا نصب العین سب کے لیے اصلاحات اور کسی کے لیے خصوصی استحقاق نہیں ہے۔
وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر خلیل الرحمٰن کو مبارکباد دی اور پاکستان کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے گزشتہ اجلاس کی صدر انالینا بیئربوک کی قیادت کو سراہا اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو عالمی جنوب کے لیے مؤثر آواز اٹھانے پر خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی امن، انصاف، انسانی وقار، معاشی ترقی اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔