اٹک پل اور موٹروے M-1 کی بندش پر شہریوں کا اظہارِ تشویش، خیبرپختونخوا کا پنجاب اور اسلام آباد سے زمینی رابطہ متاثر ہونے کا خدشہ

اٹک پل اور موٹروے M-1 کی بندش پر شہریوں کا اظہارِ تشویش، خیبرپختونخوا کا پنجاب اور اسلام آباد سے زمینی رابطہ متاثر ہونے کا خدشہ

اٹک: اٹک پل جی ٹی روڈ اور موٹروے M-1 کی بندش پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ راستوں کی بندش سے خیبرپختونخوا، راولپنڈی، اسلام آباد اور پنجاب کے درمیان آمدورفت، کاروبار اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

شہریوں کے مطابق اٹک پل کو جی ٹی روڈ پر چار روز قبل ہی مکمل طور پر بند کر دیا گیا، جبکہ موٹروے M-1 سے بھی اٹک پل کی جانب آمدورفت معطل ہے۔ اس صورتحال میں راولپنڈی، اسلام آباد اور پنجاب میں مقیم خیبرپختونخوا کے شہریوں کو شادی بیاہ، جنازوں اور دیگر ضروری خاندانی معاملات کے لیے اپنے آبائی علاقوں میں جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کو اشیائے خوردونوش کی ترسیل کے لیے جی ٹی روڈ اور موٹروے M-1 اہم ذرائع ہیں، دونوں راستوں کی بندش سے گڈز ٹرانسپورٹ، کاروباری سرگرمیاں اور اشیائے ضروریہ کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ طویل بندش کی صورت میں قلت اور قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بھی عام آدمی کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

شہریوں نے سوال اٹھایا کہ جب سیاسی جماعتوں کی جانب سے راستوں کی بندش پر بنیادی حقوق اور عدالتی مداخلت کی بات کی جاتی ہے تو حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے راستے بند کیے جانے پر بھی انہی حقوق کا تحفظ کیوں نہیں کیا جاتا؟ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور بنیادی حقوق کا اطلاق تمام شہریوں اور فریقین پر یکساں ہونا چاہیے۔

دوسری جانب بعض شہریوں نے حکومت کی جانب سے راستوں کی بندش کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی ممکنہ احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچنے یا توڑ پھوڑ کا خدشہ ہو تو انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تعمیر نو عوام کے ٹیکسوں سے ہوتی ہے، اس لیے سیاسی کارکنوں کو بھی ذمہ داری اور شعور کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

شہریوں نے کہا کہ احتجاج اور سیاسی اختلافات کے دوران سب سے زیادہ نقصان غریب مزدور، دیہاڑی دار، رکشہ ڈرائیور اور چھوٹے کاروباری طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ راستے بند ہونے سے مزدور کی دیہاڑی، رکشہ ڈرائیور کی سواری اور دکاندار کا کاروبار متاثر ہوتا ہے، جبکہ گھریلو اخراجات، کرایوں، بجلی کے بلوں اور بچوں کی ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

شہریوں نے حکمرانوں اور سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی مشکلات کا احساس کریں، احتجاج اور سکیورٹی کے معاملات میں عام شہریوں کی آمدورفت، روزگار اور بنیادی ضروریات کو ترجیح دیں اور ایسے اقدامات کریں جن سے عوام کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں