کوہاٹ میں شہید پولیس اہلکار فہیم اللہ کے گھر عطاء اللہ تارڑ کی آمد، دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہ بیٹھنے کا عزم، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر کڑی تنقید

کوہاٹ میں شہید پولیس اہلکار فہیم اللہ کے گھر عطاء اللہ تارڑ کی آمد، دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہ بیٹھنے کا عزم، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر کڑی تنقید

کوہاٹ: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کوہاٹ واقعے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار فہیم اللہ کے گھر پہنچ کر ان کے والد اکرام اللہ سے ملاقات کی، فاتحہ خوانی کی اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ فہیم اللہ تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستانی قوم فہیم اللہ جیسے بہادر جوانوں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کرے گی، شہداء نے ملک کے امن و سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ شہداء کے اہل خانہ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بہادر اہلکاروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے شہید فہیم اللہ کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنما صادق رضا بھی ان کے ہمراہ تھے۔

بعد ازاں ورکرز سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج کوہاٹ کی فضا سوگوار ہے، دھرتی کے بہادر جوانوں نے ملکی دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا جبکہ سی ایم ایچ کوہاٹ میں زیر علاج زخمی جوانوں کا جذبہ دیدنی ہے۔ ان کے مطابق فوج اور پولیس کے جوانوں اور افسران نے آپریشن میں بہادری سے حصہ لیا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرکے دم لے گی اور دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد بزدلانہ طور پر چھپ کر وار کر رہے ہیں لیکن وہ قوم کے حوصلے کو کم نہیں کرسکتے۔

وفاقی وزیر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ کوہاٹ کے افسوسناک واقعے کے وقت وزیراعلیٰ کہاں تھے۔ ان کے بقول سہیل آفریدی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے لاہور کی سڑکوں پر موجود تھے جبکہ اپنے صوبے کے عوام کے لیے ان کے پاس وقت نہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ نے ہیلی کاپٹر پر 15 منٹ چکر لگایا اور واپس چلے گئے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے لیے صوبائی حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں پولیس کی سہولت کے لیے فرانزک لیب تک موجود نہیں، جبکہ ان کا الزام تھا کہ من پسند افراد کو ٹھیکے دے کر پیسے وصول کیے جاتے ہیں اور صوبے میں کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کوہاٹ میں ٹنل اور موٹروے جیسے منصوبے سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں بنائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں جنگلات کاٹے جا رہے ہیں، جعلی سگریٹ کی فیکٹریاں پکڑی گئی ہیں اور گولڈ مائننگ کے ٹھیکے کن لوگوں کو دیے گئے، اس کا بھی جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبے کا ترقیاتی فنڈ کہاں خرچ ہو رہا ہے، کسی کو معلوم نہیں۔

اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے حوالے سے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد کو بند کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی اور کسی مسلح جتھے کو دارالحکومت کی طرف آنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ اس کی روایت پرامن احتجاج کی نہیں، تاہم یہ ان کا سیاسی مؤقف ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں سے حساب لیا جائے گا اور انہیں فنڈز کے بہانوں کے پیچھے چھپنے نہیں دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں