خاران میں ڈپٹی کمشنر سمیت 4 افراد اغوا، نوشکی خاران شاہراہ پر مسلح افراد کی ناکہ بندی، بولان میں 132 کے وی بجلی کی مین لائن کا ٹاور دھماکے سے تباہ
خاران: ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو کو نوشکی خاران شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر اغوا کرلیا۔ واقعے کی تاحال صوبائی حکومت یا محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم صوبائی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار اور خاران میں تعینات سرکاری افسر نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق واقعہ خاران سے تقریباً 35 سے 40 کلومیٹر پہلے پولیس تھانہ پتکن کی حدود میں برشونکی کے مقام پر پیش آیا۔ ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو اتوار کو کوئٹہ سے خاران جا رہے تھے کہ انہیں راستے میں مسلح افراد کی ناکہ بندی کی اطلاع ملی، جس پر انہوں نے خاران جانے کے بجائے گاڑی واپس کوئٹہ کی جانب موڑ لی۔
ذرائع کے مطابق گاڑی اور موٹرسائیکلوں پر سوار تقریباً دو درجن مسلح افراد نے ڈپٹی کمشنر کی گاڑی کا تعاقب کیا اور اسے روک کر منیر احمد سومرو، پولیس گن مین، پولیس ڈرائیور اور ایک سول مہمان کو اپنے ساتھ لے گئے۔
مقامی ذرائع نے مغوی افراد کی شناخت پولیس سپاہی محمد یوسف، پولیس ڈرائیور سپاہی پیرک اور سول مہمان نصراللہ کے طور پر کی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق چاروں مغویوں کی بازیابی کے لیے مقامی سطح پر قبائلی عمائدین کے ذریعے بھی کوششیں جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق منیر احمد سومرو کا تعلق بلوچستان کے نصیرآباد ڈویژن سے ہے اور وہ تقریباً دو برس سے ڈپٹی کمشنر خاران کے عہدے پر تعینات ہیں۔ پتکن نوشکی اور خاران کے درمیان واقع علاقہ ہے جو پارود اور لجے کے پہاڑی سلسلوں کے قریب بتایا جاتا ہے، جہاں مغویوں کو لے جائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بولان میں بھی تخریبی کارروائی کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔ ایکسین گرڈ کے مطابق براہم باران کے مقام پر 132 کے وی مین لائن کے ٹاور کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ٹاور تباہ ہونے کے بعد تاریں ڈھاڈر گرڈ اسٹیشن کو بجلی فراہم کرنے والی مین لائن پر جا گریں، جس کے باعث ڈھاڈر اور گردونواح میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
محکمہ بجلی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مین لائن متاثر ہونے کے باعث ڈھاڈر گرڈ اسٹیشن کو بجلی کی سپلائی بند ہے اور بجلی کی بحالی کا کام جاری ہے، جبکہ بجلی کل بحال ہونے کا قوی امکان ہے۔