دورۂ کوئٹہ: بلوچستان کی صورتحال، مذاکرات، سکیورٹی اور میڈیا کے کردار پر صحافیوں کی اہم گفتگو
کوئٹہ: بلوچستان کے حالیہ دورۂ کوئٹہ کے دوران سینئر صحافیوں کی کور کمانڈر کوئٹہ، وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی حکام سے ملاقاتوں میں صوبے کی سکیورٹی، ترقی، لاپتہ افراد، نوجوانوں سے مذاکرات، میڈیا کی آزادی اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وہ پہلی مرتبہ کوئٹہ بریفنگ میں شریک ہوئیں، کیونکہ ان کے مطابق بلوچستان میں آزادانہ طور پر جانا ممکن نہیں اور میڈیا کا مکمل بلیک آؤٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بریفنگ کے دوران بلوچ لاپتہ افراد، ماہ رنگ بلوچ سمیت نوجوانوں سے ڈائیلاگ کے امکانات اور ریاستی جبر کے حوالے سے سوالات کیے گئے۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق ریاستی اداروں کی “انکاری کیفیت” بدستور برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا حل صرف ہارڈ اسٹیٹ میں نہیں اور بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ بلوچ قیادت اور مختلف رہنماؤں کو اعتماد میں لیے بغیر مسئلے کا پائیدار حل ممکن نہیں۔
شاہد رند کا جواب
مشیر اطلاعات بلوچستان شاہد رند نے عاصمہ شیرازی کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ٹویٹ کا لب لباب وہی سوال ہے جس کا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تقریباً دس منٹ تک مدلل جواب دیا۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے جواب کے باوجود اگر عاصمہ شیرازی مطمئن نہیں تو یہ ان کا حق ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے پہلے دن سے میڈیا کے ذریعے بارہا کہا ہے کہ مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا گیا۔
ان کے بقول:
“مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، لیکن دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے کبھی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ نہ ہم کنفیوز تھے، نہ ہیں اور نہ ہوں گے۔”
شاہد رند نے عاصمہ شیرازی کو براہِ راست مباحثے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کسی بھی وقت ان کی اسکرین پر آکر تفصیلی اور بامعنی مباحثے کے لیے تیار ہیں۔
غریدہ فاروقی کے مطابق ریاستی پالیسی
سینئر صحافی غریدہ فاروقی نے اپنے دورۂ بلوچستان کے حوالے سے بتایا کہ کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان کے ساتھ تقریباً پانچ گھنٹے طویل نشست ہوئی، جس میں دیگر صحافی بھی شریک تھے۔
غریدہ فاروقی کے مطابق ریاستی مؤقف یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ امن، محبت اور “جادو کی جپھی” کے ذریعے ترقی و خوشحالی کا سفر آگے بڑھایا جائے، تاہم دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاونین کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ جو لوگ ریاست سے اختلاف رکھتے ہیں لیکن آئین پاکستان کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول کے لیے آئینی حدود میں جدوجہد کرنا چاہتے ہیں، ان سے بات چیت کا راستہ موجود ہے اور مختلف سطحوں پر مذاکرات کیے بھی جا رہے ہیں۔
غریدہ فاروقی نے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں، معدنی وسائل سے استفادے اور صوبے کو مالی طور پر خودکفیل بنانے کے مجوزہ دس سالہ منصوبے کا بھی ذکر کیا۔
علینہ شگری: بلوچستان کو صرف منفی خبروں تک محدود نہ کیا جائے
صحافی علینہ شگری نے دورۂ کوئٹہ پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کہا کہ بلوچستان ایک زندہ، باصلاحیت، زخمی مگر پُرعزم صوبہ ہے جہاں مسائل اور جائز شکایات کے ساتھ ساتھ ترقی اور امن کی خواہش بھی موجود ہے۔
ان کے مطابق بلوچستان کو عموماً کسی بڑے سانحے کے بعد قومی توجہ ملتی ہے، جبکہ صوبے کی روزمرہ زندگی، نوجوانوں کی صلاحیت، ترقیاتی سرگرمیوں اور مقامی کامیابیوں کو قومی گفتگو میں مطلوبہ جگہ نہیں ملتی۔
علینہ شگری نے کور کمانڈر کوئٹہ کی نشست کا حوالہ دیتے ہوئے “Embrace Balochistan. If resisted, embrace more firmly” کو دورے کا اہم پیغام قرار دیا اور کہا کہ اس کا عملی مفہوم عوام کو تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار، سیاسی نمائندگی، شفاف ترقیاتی اخراجات، قانون کی یکساں عمل داری اور وسائل میں منصفانہ حصہ فراہم کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا مؤقف
صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ورچوئل ملاقات بھی ہوئی۔ ان کے مطابق بلوچستان ایک conflict zone ہے اور استحکام کے حصول میں وقت لگے گا۔
وزیراعلیٰ نے صوبے کے آئندہ دس سالہ ترقیاتی منصوبے، معدنی وسائل کے استعمال، گورننس اور کرپشن میں کمی سمیت مختلف امور پر بریفنگ دی۔
صحافیوں کے مطابق بریفنگ میں بلوچستان میں دہشت گردی کے پس منظر، جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کے استعمال، سکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردوں کے مبینہ بیرونی روابط سے متعلق بھی مختلف نکات بیان کیے گئے۔
اصل اختلاف کہاں ہے؟
حالیہ دورۂ کوئٹہ سے سامنے آنے والے بیانات میں بنیادی طور پر دو اہم زاویے نمایاں ہوئے ہیں۔
ایک طرف ریاستی و حکومتی مؤقف ہے کہ آئین کو تسلیم کرنے والے ناراض عناصر سے مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے، لیکن دہشت گردوں اور سہولت کاروں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
دوسری طرف صحافیوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ بلوچستان کے سیاسی مسائل، لاپتہ افراد، انسانی حقوق، میڈیا کی رسائی اور نوجوانوں کے ساتھ مکالمے کو سکیورٹی کے مسئلے سے الگ کرکے بھی دیکھا جائے اور بلوچ سیاسی قیادت کو وسیع تر اعتماد میں لیا جائے۔
یوں دورۂ کوئٹہ کی بریفنگ میں یہ بات نمایاں طور پر سامنے آئی کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف سکیورٹی کارروائیوں سے حل نہیں ہوگا؛ امن و استحکام کے ساتھ سیاسی مکالمہ، اچھی حکمرانی، شفافیت، معاشی ترقی اور عوام کا اعتماد بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔