سابق آئی جی خیبرپختونخوا، کمانڈنٹ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور سابق وفاقی سیکرٹری داخلہ دل جان خان مروت انتقال کر گئے، مولانا فضل الرحمن نے نماز جنازہ پڑھائی
اسلام آباد: سابق انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا، سابق کمانڈنٹ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور سابق وفاقی سیکرٹری داخلہ دل جان خان مروت انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی امامت میں ایچ ایٹ قبرستان اسلام آباد میں ادا کر دی گئی۔
مرحوم دل جان خان مروت کا تعلق ضلع لکی مروت کی معروف سیاسی فیملی بیگوخیل سے تھا۔ وہ سابق رکن صوبائی اسمبلی مشعل خان مرحوم کے بھائی تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سے لکی مروت، بنوں، خیبرپختونخوا اور ملک بھر کے سرکاری، سیاسی اور سماجی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی۔
نماز جنازہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، سیاسی و سماجی رہنماؤں، سرکاری افسران، دوستوں، عزیز و اقارب اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے نماز جنازہ کی امامت کی اور مرحوم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی۔
مولانا فضل الرحمن نے مرحوم دل جان خان مروت کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
دل جان خان مروت پاکستان کے ان ممتاز سرکاری افسران میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی طویل اور باوقار سرکاری زندگی میں پولیس، صوبائی انتظامیہ، وفاقی حکومت اور بین الاقوامی سطح پر اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔
مرحوم 11 نومبر 1934ء کو لکی مروت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد 21 جنوری 1961ء کو پولیس سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے بی اے، ایل ایل بی اور سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔
اپنے طویل سرکاری کیریئر کے دوران دل جان خان مروت خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس کے منصب پر بھی فائز رہے۔ وہ دسمبر 1983ء سے نومبر 1985ء تک صوبے کے آئی جی پولیس رہے اور امن و امان اور پولیس انتظامیہ سے متعلق اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔
وہ مختلف ادوار میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کمانڈنٹ کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور انتظامی تجربے کے باعث انہیں صوبائی اور وفاقی سطح پر متعدد اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
دل جان خان مروت نے بعد ازاں وفاقی حکومت میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ وفاقی سیکرٹری داخلہ کے منصب پر فائز رہے، جبکہ سیکرٹری سیفران اور سیکرٹری نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کے طور پر بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔
ان کے کیریئر کا ایک اہم باب سفارتی خدمات سے بھی وابستہ رہا۔ وہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے میں فرسٹ سیکرٹری اور بعد ازاں کونسلر کے طور پر بھی پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے۔
دل جان خان مروت کی پیشہ ورانہ زندگی کا نمایاں پہلو ان کی بین الاقوامی سطح پر خدمات تھیں۔ انہیں اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کی جانب سے انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول بورڈ (INCB) کا رکن منتخب کیا گیا۔ بعد ازاں وہ اس عالمی ادارے کے فرسٹ وائس پریذیڈنٹ کے منصب پر بھی فائز رہے۔
یہ اعزاز ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور منشیات کے انسداد کے شعبے میں ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔ انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول بورڈ دنیا بھر میں منشیات سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں اور انسداد منشیات کے نظام کی نگرانی کرنے والا ایک اہم عالمی ادارہ ہے۔
سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دل جان خان مروت نے عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے اپنے آبائی ضلع لکی مروت سے تعلق برقرار رکھا اور دل جان فاؤنڈیشن کے ذریعے صحت، تعلیم اور ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
مرحوم نے عملی سیاست میں نمایاں کردار اختیار کرنے کے بجائے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سماجی اور فلاحی خدمات کو ترجیح دی اور اپنے علاقے کے پسماندہ طبقات کی مدد کے لیے کام کرتے رہے۔
دل جان خان مروت کی زندگی ایک ایسے باوقار سرکاری افسر کی زندگی تھی جس نے پولیس سروس سے اپنے عملی سفر کا آغاز کیا اور پھر صوبائی پولیس کی سربراہی، فرنٹیئر کانسٹیبلری کی قیادت، وفاقی حکومت کے اعلیٰ عہدوں اور بین الاقوامی اداروں میں پاکستان کی نمائندگی تک ایک طویل سفر طے کیا۔
ان کے انتقال کو خیبرپختونخوا، بالخصوص لکی مروت کے سرکاری، سیاسی اور سماجی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ مرحوم کی خدمات کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ
اللہ تعالیٰ مرحوم دل جان خان مروت کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور تمام اہل خانہ، عزیز و اقارب اور سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
ضلع لکی مروت کی معروف سیاسی فیملی کےچشم وچراغ ,سابق ایم پی اے مشعل خان مرحوم کے بھائ سابق کمانڈنٹ فرنٹیئڑ کانسٹبلری وآئ جی خیبر پختونخوا,سابق سیکرٹری داخلہ دل جان خان مروت آف بیگوخیل جن کا آج 11ستمبر2026ء بروز جمعہ کے مبارک دن انتقال ہواتھا,ان کی نمازجنازہ ایچ ایٹ قبرستان اسلام آباد میں ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ کی امامت قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے فرمائی۔
نمازِ جنازہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اورشہریوں نے شرکت کی۔اس موقع پر قائدجمعیت نے دل جان خان کے انتقال پر گہرے افسوس اور لواحقین سے تعزیت کااظہار کیا۔
سابق آئی جی پولیس دل جان خان مروت انتقال کر گئے، ایک باوقار سرکاری و بین الاقوامی کیریئر اختتام پذیر
لکی مروت سے تعلق رکھنے والے سابق انسپکٹر جنرل پولیس اور ممتاز پاکستانی بیوروکریٹ دل جان خان مروت کے انتقال کی اطلاع ہے۔ ان کے انتقال کی خبر نے لکی مروت، بنوں اور خیبر پختونخوا کے سرکاری و سماجی حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔
دل جان خان 11 نومبر 1934ء کو لکی مروت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بی اے، ایل ایل بی اور سیاسیات میں ایم اے کی تعلیم حاصل کی اور 21 جنوری 1961ء کو پولیس سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔
ان کا سرکاری کیریئر صرف پولیس تک محدود نہیں رہا۔ وہ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس رہے اور دسمبر 1983ء سے نومبر 1985ء تک آئی جی کے منصب پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ وہ مختلف ادوار میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کمانڈنٹ بھی رہے۔ اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ میں ان کی خدمات کا ذکر 1978–1980ء اور 1982–1983ء کے دوران کمانڈنٹ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور 1980–1982ء اور 1983–1986ء کے دوران آئی جی پولیس کے طور پر ملتا ہے۔
وفاقی حکومت میں اہم ذمہ داریاں
دل جان خان نے بعد ازاں وفاقی حکومت میں بھی اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ سیکریٹری وزارتِ داخلہ، سیکریٹری اسٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجنز (SAFRON) اور سیکریٹری نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق وہ 1986ء سے 1990ء تک وزارتِ داخلہ میں ایڈیشنل سیکریٹری، 1990ء میں سیکریٹری داخلہ، 1990ء سے 1993ء تک SAFRON کے سیکریٹری اور 1990ء اور پھر 1993–1994ء میں نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کے سیکریٹری رہے۔
ان کے کیریئر کا ایک اہم باب کابل میں پاکستانی سفارت خانے سے بھی وابستہ رہا، جہاں وہ 1972ء میں فرسٹ سیکریٹری اور 1973ء سے 1978ء تک کونسلر کے منصب پر خدمات انجام دیتے رہے۔
اقوامِ متحدہ کے انسدادِ منشیات بورڈ تک رسائی
دل جان خان کی زندگی کا ایک نمایاں اعزاز یہ تھا کہ انہیں 1995ء میں اقوامِ متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل نے International Narcotics Control Board (INCB) کا رکن منتخب کیا۔ اقوامِ متحدہ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق انہیں 48 میں سے 36 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔
بعد ازاں وہ اس عالمی ادارے کے First Vice-President بھی منتخب ہوئے۔ اقوامِ متحدہ کی 1998ء کی پریس ریلیز واضح طور پر تصدیق کرتی ہے کہ دل جان خان کو بورڈ کا First Vice-President منتخب کیا گیا تھا۔
یہ منصب اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ INCB دنیا بھر میں منشیات سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد، منشیات کی غیر قانونی تجارت اور اس کے تدارک سے متعلق عالمی نظام کی نگرانی کرنے والا اقوامِ متحدہ کا ماہر ادارہ ہے۔
عوامی خدمت اور فلاحی سرگرمیاں
سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دل جان خان نے اپنے آبائی ضلع لکی مروت سے تعلق نہیں توڑا۔ انہوں نے دل جان فاؤنڈیشن کے ذریعے صحت، تعلیم اور ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے کام کیا۔
2016ء میں The News نے ان کی فلاحی سرگرمیوں پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں بنیادی صحت کے مرکز کے قیام کے لیے زمین فراہم کی، جبکہ فاؤنڈیشن صحت اور تعلیم کے شعبوں میں پسماندہ لوگوں کی مدد کر رہی تھی۔
اسی رپورٹ کے مطابق دل جان خان نے سیاست میں جانے کے بجائے ریٹائرمنٹ کے بعد سماجی خدمت کو ترجیح دی۔
ایک طویل اور باوقار سفر کا اختتام
دل جان خان مروت کی زندگی اس نسل کے ان پاکستانی سرکاری افسران کی نمائندگی کرتی ہے جنہوں نے پولیس، صوبائی انتظامیہ، وفاقی حکومت اور بالآخر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان کا کیریئر پولیس سروس سے آئی جی، فرنٹیئر کانسٹیبلری کی قیادت، وفاقی سیکریٹری شپ اور اقوامِ متحدہ کے انسدادِ منشیات کے عالمی ادارے کی قیادت تک پھیلا ہوا تھا۔
اگر ان کے انتقال کی خبر کی باضابطہ تصدیق اہلِ خانہ یا متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے ہو چکی ہے تو یقیناً یہ لکی مروت اور پورے خیبر پختونخوا کے لیے ایک قابلِ احترام شخصیت کے انتقال کا بڑا نقصان ہے۔
اِنّا لِلّٰهِ وَإِنّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔