چمن میں باپ کے جنازے سے لپٹے معصوم بچوں کی آہوں نے ہر آنکھ نم کر دی
بلوچستان میں بدامنی کے واقعات کے درمیان چمن میں گزشتہ شب فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نظر محمد اچکزئی کے دو معصوم بچے اپنے والد کی لاش کے ساتھ بیٹھے زاروقطار روتے رہے۔
ڈی سی کمپلیکس کے سامنے احتجاج کے دوران بچوں کی گریہ و فریاد نے وہاں موجود ہر شخص کو غمزدہ کر دیا۔ معصوم بچوں کو اپنے والد کے جنازے کے ساتھ بلکتے دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔
بلوچستان میں آئے روز کہیں والدین اپنے بچوں کی لاشوں پر نوحہ کناں نظر آتے ہیں، کہیں مائیں اور بہنیں اپنے پیاروں کے غم میں ماتم کرتی ہیں اور کہیں بھائی بھائی کے جنازے اٹھا رہے ہوتے ہیں۔
آخر ان معصوم بچوں کے والد کو کون واپس لائے گا؟ بلوچستان میں جنازے اٹھنے کا یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟