جڑواں شہروں میں مبینہ ہنی ٹریپ گینگ کا انکشاف، خاتون نے ہنی ٹریپ کے ذریعے مختلف علاقوں میں 10 سے زائد مقدمات درج کروائے

اسلام آباد/راولپنڈی: جڑواں شہروں میں مبینہ ہنی ٹریپ گینگ کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایسٹرا ڈیوڈ نامی خاتون کے بارے میں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس نے مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کے ذریعے پاکستان کے مختلف علاقوں میں 10 سے زائد مقدمات درج کروائے ہیں۔
ذرائع کے مطابق خاتون ایک مرتبہ پھر ٹیکسلا میں مقدمہ درج کروانے میں کامیاب ہوئی ہے، جس کے بعد معاملے نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ ذرائع کا الزام ہے کہ ٹیکسلا میں ایف آئی آر کے اندراج کے معاملے میں راولپنڈی پولیس کے بعض اہلکاروں کا مبینہ تعاون بھی حاصل رہا، جبکہ پشاور سے تعلق رکھنے والے مبینہ جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ روابط کا پہلو بھی تحقیقات طلب قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک ہی خاتون کی جانب سے مختلف علاقوں میں ہنی ٹریپ کے ذریعے متعدد افراد کو مقدمات میں الجھانے کے مبینہ سلسلے نے پولیس کے تفتیشی نظام اور مقدمات کے اندراج کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
متعلقہ اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسٹرا ڈیوڈ کے خلاف یا اس کی مدعیت میں درج تمام مقدمات کا ریکارڈ، ٹیکسلا میں درج حالیہ ایف آئی آر، مقدمات کے پس پردہ حقائق اور پولیس اہلکاروں کے ممکنہ کردار کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہنی ٹریپ، مبینہ جرائم پیشہ نیٹ ورک اور پولیس کے بعض عناصر کے ممکنہ گٹھ جوڑ کا سنگین کیس بن سکتا ہے۔
تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور پولیس کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔
