پاکستانی محقق واجد علی طوری ووہان کے دیہی صفائی کے طریقوں کو پاکستان میں اپنانے کے خواہاں ہیں۔

ووہان (شِنہوا) پاکستانی محقق واجد علی طوری گزشتہ 7 سال سے ایک ایسے موضوع پر تحقیق کر رہے ہیں جس کے بارے میں زیادہ تر لوگ سوچنا بھی پسند نہیں کرتے یعنی بیت الخلا میں فلش کرنے کے بعد کیا ہوتا ہے۔

لیکن واجد کے لئے، جنہوں نے حال ہی میں چائنہ یونیورسٹی آف جیو سائنسز (ووہان) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے، یہ عمل صحت عامہ، ماحولیاتی انصاف اور اپنے وطن پاکستان کے دور افتادہ پہاڑی علاقے پاڑہ چنار میں دیہی صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے خواب سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “میرا سفر کراچی سے بیچلر ڈگری کے آغاز اور پھر ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے لئے چین آنے تک پانی کی آلودگی اور صحت عامہ کے مسائل حل کرنے کے گہرے جذبے سے عبارت رہا ہے۔”

ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے دوران واجد کی تحقیق کا مرکز بائیو ایروسول کے اخراج، مقداری مائکروبیل خطرے کے جائزے اور صفائی کی ٹیکنالوجیز رہے۔ 7 سال کے دوران انہوں نے بیت الخلا کے فلش اور عوامی واش رومز سے لے کر گندے پانی کی صفائی کے پلانٹس اور فضلے کی منتقلی کے بلدیاتی مراکز تک صفائی کے مختلف حالات میں تجرباتی نگرانی، ماڈل سازی اور خطرے کا جائزہ لیا، بالخصوص دیہی بیت الخلاؤں کے فلشنگ ماڈل پر توجہ مرکوز کی۔ ان کے تحقیقی نتائج بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ “مثال کے طور پر میں نے دریافت کیا ہے کہ فلش کے پانی کی مقدار 6 لیٹر سے کم کرکے 3 لیٹر کرنے سے بائیو ایروسول کی ارتکاز تقریباً 50 فیصد کم کی جا سکتی ہے۔” انہوں نے عوامی اور مشترکہ بیت الخلاؤں کے لئے محفوظ ترین ڈیزائن تلاش کرنے کی غرض سے مختلف اقسام کے بیت الخلاؤں اور ہوا کی آمد و رفت کے حالات کا بھی موازنہ کیا۔

واجد کو بالخصوص ووہان میں دیہی بیت الخلاؤں کے سیوریج کی مشترکہ صفائی کے طریقہ کار میں دلچسپی ہے، جو جدید اور مہنگے آلات پر انحصار کرنے کے بجائے دیہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کم لاگت اور زیادہ موثر طریقوں پر زور دیتا ہے۔ وہ یہ جانچنا چاہتے ہیں کہ آیا ایسے ہی حل پاکستان میں بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “ووہان میں بہت سے عوامی واش رومز میں اچھے ایگزاسٹ سسٹم موجود ہیں جو آلودہ ہوا کو مسلسل باہر نکالتے رہتے ہیں۔ یہ طریقہ سادہ، کم لاگت والا ہے اور اسے پاکستان کے عوامی بیت الخلاؤں میں آسانی سے نصب کیا جا سکتا ہے۔”

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ایک مقامی ماڈل کو دوسرے ملک میں منتقل کرنے کے لئے محتاط انداز میں مقامی حالات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ انہوں نے تکنیکی رکاوٹوں میں دیہی بنیادی ڈھانچے کی کمی اور جغرافیائی تنوع جبکہ غیر تکنیکی رکاوٹوں میں استطاعت اور رویوں میں تبدیلی کو شامل کیا۔

انہوں نے کہا کہ “ان رکاوٹوں کے باوجود میں پاکستان واپس جانے پر چھوٹے پیمانے کے آزمائشی منصوبے شروع کرنے کے لئے پوری طرح پرعزم ہوں۔ ہمیں کہیں نہ کہیں سے آغاز کرنا ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ مناسب مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالا گیا ووہان کا ماڈل پاکستان کے صفائی کے مسائل کے حل کا ایک عملی اور موثر حصہ بن سکتا ہے۔”

کئی برس قبل ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرتے وقت واجد کو کئی ممالک کی یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کی پیشکشیں موصول ہوئی تھیں، لیکن انہوں نے ووہان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ اب ایک بار پھر انہوں نے چائنہ یونیورسٹی آف جیو سائنسز (ووہان) میں پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کے دوران وہ بائیو ایروسول اور مقداری مائکروبیل خطرے کے جائزے سے متعلق اپنے موجودہ کام کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ چینی اور پاکستانی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

چین میں ان کے تجربے نے انہیں چین میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانی طلبہ کے لئے ایک غیر رسمی رابطے کا ذریعہ بھی بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سوشل میڈیا پر میری فعال موجودگی کی وجہ سے اب پاکستان اور دیگر ممالک سے بہت سے طلبہ مجھ سے چین میں تعلیم کے لئے درخواست دینے کے بارے میں رابطہ کرتے ہیں۔”

اب تک وہ 8 پاکستانی طلبہ کو ووہان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے رہنمائی فراہم کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “مجھے خوشی ہے کہ میں ان کے لئے ایک چھوٹا سا پل بن سکا ہوں۔”

مستقبل کے حوالے سے واجد چین میں حاصل کئے گئے علم اور تجربے کو پاکستان واپس لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “پوسٹ ڈاکٹریٹ کے بعد میرا طویل مدتی منصوبہ پاکستان واپس آنا اور پانی سے پیدا ہونے والے جراثیم اور ماحولیاتی صحت پر توجہ مرکوز کرنے والی ایک تحقیقی لیبارٹری قائم کرنا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “میں چین اور پاکستان کے درمیان ماحولیاتی سائنس کے شعبے میں ٹیکنالوجیز کے تبادلے، طلبہ کی تربیت اور دونوں ممالک کی پائیدار ترقی میں کردار ادا کرنے کے لئے ایک پل بننے کی امید رکھتا ہوں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں