سندھ کی تقسیم کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہوگا، مراد علی شاہ
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے مستقبل کا فیصلہ صرف سندھ کے عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق ہوگا۔
کورنگی میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے خلاف مختلف مواقع پر چھ قراردادیں منظور کرچکی ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وہ سندھ اسمبلی، منتخب نمائندوں اور عوام کو جوابدہ ہیں، بالآخر سندھ کے عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ کسی فرد کی ذاتی خواہش عوام کی مرضی پر حاوی نہیں ہوسکتی۔
وزیراعلیٰ نے سندھ میں بلدیاتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی حکومت کا نظام فعال ہے اور منتخب بلدیاتی ادارے قانون کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی بلدیاتی اداروں کو مزید مضبوط اور بااختیار بنانے کے عزم پر قائم ہے، تاہم اختیارات کے ساتھ احتساب، انتظامی صلاحیت اور عوامی خدمات کی فراہمی بھی بہتر بنانا ہوگی۔
کیٹی بندر گہری پانی کی بندرگاہ، گیم چینجر منصوبہ قرار
وزیراعلیٰ سندھ نے مجوزہ کیٹی بندر گہرے پانی کی بندرگاہ کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا خواب قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی رہنمائی میں اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ کیٹی بندر تاریخی اور تزویراتی اہمیت کا حامل بندرگاہی مقام ہے، عالمی تجارت کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر یہاں جدید گہرے پانی کی بندرگاہ کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تھر کول منصوبہ گیم چینجر ثابت ہوا ہے اور ان شاء اللہ کیٹی بندر گہرے پانی کی بندرگاہ بھی سندھ اور پاکستان کے لیے ایک تاریخی ترقیاتی منصوبہ ثابت ہوگی، جس سے تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں صحت کی سہولیات اور خدمات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
—
وزیراعلیٰ سندھ سے سپریم کورٹ بار کے وفد کی ملاقات، وکلا ہاسٹل کیلئے تعاون کی یقین دہانی
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد کو کراچی میں وکلا کے لیے مخصوص ہاسٹل کے قیام میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرادی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے صدر ہارون الرشید کی قیادت میں وفد نے مراد علی شاہ سے ملاقات کی، جس میں کراچی آنے والے وکلا کے لیے رہائشی سہولیات، صحت، فلاح و بہبود اور نوجوان وکلا کے لیے انٹرن شپ کے مواقع پر گفتگو ہوئی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ انصاف، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اداروں کی مضبوطی میں قانونی برادری کا کردار قابلِ قدر ہے۔ سندھ حکومت وکلا کو درپیش حقیقی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو وکلا کے ہاسٹل کے لیے مناسب اراضی مختص کرنے کی تجویز کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے پر جلد پیش رفت کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر داخلہ، قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار نے بتایا کہ وکلا کے ہاسٹل کے لیے اراضی مختص کرنے کی تجویز متعلقہ کابینہ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے گی۔ حکومت مناسب اراضی کی دستیابی کا جائزہ لے گی اور سپریم کورٹ بار سے مشاورت کے بعد معاملے کو آگے بڑھایا جائے گا۔
ملاقات میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو اور پراسیکیوٹر جنرل شبیر شاہ سمیت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور ارکان نے شرکت کی۔
ملاقات کے اختتام پر سندھ حکومت اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے درمیان وکلا کے ہاسٹل سمیت دیگر فلاحی اقدامات پر باہمی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔