گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا جامعہ دارالہدیٰ میں خطاب، بانی پی ٹی آئی اور پولیس قربانیوں پر بھی گفتگو
نوشہرہ میں جامعہ دارالہدیٰ حکیم آباد میں یومِ والدین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آج کے بابرکت دن طلباء اور اساتذہ کے درمیان آکر انہیں بہت خوشی ہوئی۔ اسلام علم حاصل کرنے اور تعلیم کی اہمیت پر زور دیتا ہے، جبکہ علم انسان کی زندگی بدلنے اور معاشرے کی ترقی کا اہم ذریعہ ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ موجودہ دور میں جدید تعلیم کا حصول انتہائی ضروری ہے۔ جامعہ دارالہدیٰ کے طلباء خوش قسمت ہیں کہ وہ دینی اور دنیاوی تعلیم ساتھ ساتھ حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے جامعہ دارالہدیٰ کی گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف طلباء کو مناسب مواقع فراہم کرنے کی ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے طلباء پر زور دیا کہ وہ ساری زندگی محنت اور جستجو کا سلسلہ جاری رکھیں اور اپنی تمام تر توانائیاں تعلیم کے حصول پر مرکوز رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی کامیابی صرف تعلیم حاصل کرنے میں نہیں بلکہ دوسروں کے کام آنے میں ہے۔ جن اقوام نے تعلیم کے میدان میں کامیابی حاصل کی، وہ آج دنیا پر حکمرانی کر رہی ہیں۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بانی پی ٹی آئی کی شفاء ہسپتال منتقلی کے معاملے پر کہا کہ عدالتوں نے بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے شفاء ہسپتال منتقل کرنے کے احکامات دیے تھے، تاہم عدالتی احکامات کے باوجود انہیں شفاء ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے اپوزیشن میں شامل ہونے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ افسوس ہے کہ پی ٹی آئی والے ماضی میں مولانا فضل الرحمان کے خلاف زہر اگلتے رہے۔ سیاست میں اختلافِ رائے اپنی جگہ، تاہم ایک دوسرے کے خلاف غیر مناسب زبان استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی پولیس کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اہلکاروں کو سول ایوارڈز کے لیے نامزد نہ کرنا زیادتی ہے۔ پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بھی امن کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو قومی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ خیبرپختونخوا پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہیں بہت کم ہیں، ان کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار مشکل حالات میں فرائض انجام دے رہے ہیں، اس لیے ان کے مسائل حل کرنا ضروری ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔