پمزسانحہ : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اظہارِ افسوس، صوبے کے ہسپتالوں کے حفاظتی انتظامات کے جائزے کی ہدایت
پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پمز ہسپتال اسلام آباد میں نومولود بچوں کی المناک اموات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ معصوم نومولود بچوں کا المناک سانحہ انتہائی دلخراش اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جاں بحق نومولود بچوں کے والدین اور اہلخانہ کے دکھ کا کوئی مداوا نہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل عطا فرمائے۔
وزیراعلیٰ نے پمز واقعے کے تناظر میں خیبرپختونخوا کے تمام ہسپتالوں کے حفاظتی انتظامات کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں کسی بھی حادثے یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موجودہ انتظامات اور ایس او پیز کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، جبکہ حفاظتی انتظامات میں موجود خامیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کرکے انہیں فوری طور پر دور کیا جائے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہسپتال عملے کو ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے باقاعدگی سے تربیت دی جائے اور عملی مشقیں بھی کرائی جائیں۔
انہوں نے محکمہ صحت کو تمام سرکاری ہسپتالوں کی فائر سیفٹی انسپکشن مکمل کرکے جامع رپورٹ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہسپتالوں کے حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
پمز واقعہ پر مزمل اسلم کے سوالات
دوسری جانب مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پمز ہسپتال اسلام آباد کے افسوسناک واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر صحت کے بیان نے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مزمل اسلم کے مطابق وفاقی وزیر صحت نے کہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے وہ مؤثر انتظامات موجود نہیں جو اعلیٰ نجی ہسپتالوں میں ہوتے ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ پمز ہسپتال کا سالانہ بجٹ تقریباً 10 ارب روپے ہے، اس کے باوجود ہسپتال کی موجودہ حالت سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نجی ہسپتال کو پمز کے بجٹ کا دسواں حصہ بھی ملے تو وہ ایک شاندار ادارہ بن سکتا ہے۔
مزمل اسلم نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک سرکاری وسائل کے ضیاع اور مبینہ لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہے گا۔
انہوں نے پمز واقعے کے موقع پر ریسکیو 1122 کی موجودگی اور کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ ریسکیو 1122 کہاں تھی۔
مشیر خزانہ نے یہ بھی سوال کیا کہ پولیس متاثرہ والدین کو میڈیا سے بات کرنے سے کیوں روک رہی تھی۔ ان کے بقول انتظامی یونٹس اور وفاقی حدود کی بحث کہیں طاقت اور وسائل کی جنگ تو نہیں؟
مزمل اسلم نے کہا کہ عوام کے حقوق بہانہ نہیں بلکہ محفوظ اور معیاری سہولیات اصل ترجیح ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ 12 ربیع الاول کے بابرکت دن پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ آخر اپنی اس نااہلی کا جواب اللہ تعالیٰ کو کیا دیں گے؟
مشیر خزانہ نے حکومت پر سیاسی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان بے حس لوگوں سے کیا توقع، جو ان کے بقول جعلی فارم 47 کے سہارے اقتدار میں آئے۔ جنہیں عوام کے جذبات کی پروا نہیں، وہ عوام کے مسائل کیا سمجھیں گے۔