پمز نرسری میں آتشزدگی، 15 نومولود بچوں کی ہلاکت؛ وزیراعظم کا شدید برہمی کا اظہار، سیکریٹری صحت معطل
اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں 15 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت پمز میں آتشزدگی کے حوالے سے ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں واقعے کے اسباب، انتظامی غفلت اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سخت ترین کارروائی کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کرتے ہوئے اجلاس سے جانے کا کہا۔ وزیراعظم نے واقعے کی جامع تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، جس کے سربراہ سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان ہوں گے، جبکہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نویل اعوان کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کے والدین اور اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اندوہناک واقعے پر دل انتہائی رنجیدہ ہے اور حکومت غم کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تحقیقات میں واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے، جبکہ ذمہ دار ثابت ہونے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن احد چیمہ نے بھی پمز میں آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم نومولود بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی دلخراش اور افسوسناک ہے، متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
احد چیمہ نے کہا کہ ایسے دلخراش واقعات کی وجوہات کا مکمل تعین اور تمام حقائق کا سامنے آنا ضروری ہے۔ وزیراعظم کے حکم پر تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جو جلد واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرے گی، اور جو بھی غفلت کا مرتکب پایا گیا اسے سزا دی جائے گی۔
دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پمز میں پیش آنے والے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں پیش آنے والے نہایت دلخراش واقعے نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر وفاقی دارالحکومت میں واقع اسپتال کو نہیں سنبھالا جا سکتا تو پورا ملک کیسے سنبھالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 15 نومولود بچوں کے جھلس کر جاں بحق ہونے سے ان کے والدین پر قیامت گزر گئی ہے، جبکہ والدین کا یہ سوال بجا ہے کہ اسپتال انتظامیہ اور عملہ اس وقت کہاں تھا۔
امیر جماعت اسلامی نے وفاقی حکومت، اس کے وزراء اور بیوروکریسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومتی کارکردگی اور گڈ گورننس کے دعوے عملی طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔
ادھر پمز آتشزدگی سے متعلق بعض اطلاعات میں اسپتال کے ایمرجنسی گیٹس اور فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض ایمرجنسی گیٹس سیکیورٹی انتظامات کے باعث بند رہتے ہیں، جبکہ اسپتال کی تزئین و آرائش کے دوران فائر فائٹنگ کے آلات اتارے جانے اور دوبارہ نصب نہ کیے جانے کا بھی دعویٰ سامنے آیا ہے۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امدادی کارروائی کے دوران ریسکیو اہلکاروں کو کھڑکیوں کے ذریعے نرسری تک رسائی حاصل کرنا پڑی۔ تاہم ان انتظامی اور فائر سیفٹی سے متعلق دعوؤں کی حتمی تصدیق انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گی۔
حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی اب پمز نرسری میں آتشزدگی کے محرکات، فائر سیفٹی انتظامات، اسپتال انتظامیہ کی ممکنہ غفلت، ہنگامی راستوں کی صورتحال اور امدادی کارروائیوں سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔