امریکی پابندیوں کے خدشات، ایرانی ریال تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا
واشنگٹن: ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے نئی اور سخت پابندیوں کے ممکنہ اعلان سے قبل ایرانی کرنسی ریال کی قدر اوپن مارکیٹ میں ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی ریال کی قدر دو ملین ریال فی امریکی ڈالر سے بھی تجاوز کرگئی، جسے ایرانی کرنسی کی تاریخ کی انتہائی کم ترین سطح قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کی معیشت کے اہم مالی ذرائع کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے خصوصی طور پر ایران کے سب سے بڑے بینک بینک ملی ایران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بینک کی دنیا بھر میں موجود شاخوں کو امریکی ڈالر کے مالیاتی نظام سے الگ کیے جانے کا خطرہ ہے۔
بینک ملی کی برطانیہ، فرانس، جرمنی، ہانگ کانگ اور روس سمیت متعدد ممالک میں شاخیں یا ذیلی ادارے موجود ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ طویل عرصے سے بینک ملی پر ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک اداروں کو مالی خدمات فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔
ایران گزشتہ تقریباً 45 برس سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، تاہم پابندیوں کے باوجود ایرانی معیشت اور ریاستی نظام برقرار رہے ہیں۔ نئی پابندیوں کے ممکنہ اعلان نے ایرانی کرنسی اور معیشت پر مزید دباؤ کے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔