راولپنڈی میں حنا جاوید کا مبینہ قتل، شوہر اور گھریلو ملازم گرفتار، پولیس کی تحقیقات جاری
راولپنڈی کے علاقے لال کرتی کے عسکری اپارٹمنٹس میں 45 سالہ حنا جاوید کی مبینہ طور پر پُرتشدد موت کے واقعے نے تشویش کی لہر دوڑا دی۔ حنا جاوید کی لاش جمعرات کی صبح اپارٹمنٹ کے باتھ روم سے ملی، جہاں اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے جبکہ گردن کے گرد تار لپٹی ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات پائے گئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر متعدد چوٹوں اور گردن کی ہڈی متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ مزید فرانزک شواہد کے لیے ڈی این اے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
مقتولہ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ حنا جاوید کو اس کے شوہر فیصل اصغر امام، گھریلو ملازم اور سسر نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ خاندان کے مطابق مقتولہ کو شادی کے بعد مبینہ طور پر گھریلو مسائل اور بدسلوکی کا سامنا تھا۔ تاہم قتل کے محرکات اور ذمہ داروں کا حتمی تعین پولیس کی تفتیش اور فرانزک شواہد کی روشنی میں ہوگا۔
پولیس نے مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر امام اور گھریلو ملازم کو گرفتار کرکے عدالت سے تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے، جبکہ مقتولہ کے سسر کے حوالے سے پولیس کی کارروائی جاری ہے۔
دورانِ تفتیش گھریلو ملازم ذیشان کے بیانات میں بھی تضاد سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس نے مختلف مراحل پر واقعے سے متعلق مختلف مؤقف اختیار کیے، جس کے باعث تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔
واقعے پر پاکستان کی خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت پر زور دیا ہے کہ حنا جاوید کی موت کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی کو قتل کا ذمہ دار ثابت کیا جائے تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس میں فرانزک شواہد، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ملزمان کے بیانات کی روشنی میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔