ہنگو: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا اور اس بار 20 نہیں بلکہ 40 لاکھ افراد کو اسلام آباد لایا جائے گا۔

ہنگو: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا اور اس بار 20 نہیں بلکہ 40 لاکھ افراد کو اسلام آباد لایا جائے گا۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ تیاری مکمل رکھیں، اس بار واپس نہیں آنا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں اسٹریٹ موومنٹ کی قیادت کے لیے ضلع ہنگو پہنچے، جہاں مقامی پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اسٹریٹ موومنٹ میں پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ہنگو کے ابوبکر صدیق چوک میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر حکومت اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’تین ججز کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر ججز کے منہ پر طمانچہ مارا گیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ پھر ثابت ہوگیا ہے کہ ملک میں کچھ لوگ خود کو آئین اور قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے خلاف عدالت، ایف آئی اے یا کسی دوسرے ادارے کا حکم آئے تو ایک گھنٹے میں عملدرآمد ہوجاتا ہے اور پندرہ منٹ میں پولیس پہنچ جاتی ہے، لیکن عمران خان کے علاج کے لیے عدالتوں نے دو دن کا وقت دیا، اس کے باوجود فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدالتیں طاقتور لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لاسکتیں تو پھر مظلوموں کو سزا دینے کا بھی کوئی حق نہیں۔ اگر ظالموں اور طاقتوروں کو سزائیں نہیں دی جاسکتیں تو عدلیہ سے مطالبہ ہے کہ قید کمزور لوگوں کو بھی رہا کیا جائے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایک ملک میں کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ قوانین نہیں ہوسکتے۔ عمران خان نے حقیقی آزادی کی جو جدوجہد شروع کی ہے، اس کا مقصد کمزور اور طاقتور دونوں کے لیے قانون کی یکساں عملداری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو سوچنا ہوگا کہ ملک کو کس سمت لے جایا جا رہا ہے، کسان پریشان ہے جبکہ صنعتکار اپنا سرمایہ ملک سے باہر منتقل کر رہا ہے۔ اگر فیصلہ طاقتور لوگوں کو بچانے کا ہے تو ’’ہم اس فیصلے سے باغی ہیں۔‘‘

خواتین سے متعلق سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی خواتین کے ساتھ ظلم و جبر کیا جا رہا ہے اور عمران خان کی بہنوں کی بھی بے توقیری کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کارکن عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

ہنگو بازار میں اسٹریٹ موومنٹ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بڑی تعداد میں شرکت پر کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود عمران خان کا شفا اسپتال میں علاج نہیں کرایا گیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ’’اس دفعہ ہم نے کشتیاں جلا دی ہیں، 27 ستمبر کو کامیاب ہوکر لوٹیں گے۔‘‘ انہوں نے کارکنوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’’میں آپ کو لیڈ کروں گا، آپ نے تیار رہنا ہے، اس بار واپس نہیں آنا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’اس بار آزادی لے کر آئیں گے یا شہادت قبول کریں گے، تیسرا کوئی راستہ نہیں۔‘‘

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ عمران خان کو اپنے نوجوانوں سے امیدیں ہیں اور پی ٹی آئی کے جلسوں اور احتجاجی سرگرمیوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔ انہوں نے مریدکے میں کارکنوں پر فائرنگ سمیت مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے کارکنوں نے قربانیاں دی ہیں۔

سہیل آفریدی نے عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ ججز انصاف کریں، قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی بھرپور تیاری کریں اور اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے تیار رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں