حافظ نعیم الرحمن: پیٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنے جاری، 12 ربیع الاول کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان کریں گے
کراچی، 21 اگست 2026ء: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کرسکتی تو جماعت اسلامی بھی دھرنے اور احتجاج ختم نہیں کرے گی، حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور آئی پی پیز کے معاہدے ختم کرنے کے معاملے پر بات ہوگی، بصورت دیگر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
گورنر ہاؤس سندھ کے باہر پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنے کے چھٹے روز بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی سمیت لاہور، پشاور، کوئٹہ، حیدرآباد، لاڑکانہ، جیکب آباد اور ملک کے دیگر علاقوں میں دھرنے جاری رہیں گے، جبکہ احتجاج کو گاؤں، دیہات اور ہر سطح تک پھیلایا جائے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 11 اور 12 ربیع الاول کو دھرنوں کے مقامات پر سیرت کانفرنسز منعقد کی جائیں گی اور سیرت النبی ﷺ کے پیغام کو عام کیا جائے گا، جبکہ 12 ربیع الاول کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری حکومتی دباؤ یا چالوں میں نہ آئے، ملک بھر میں پرامن طور پر دکانیں بند کی جائیں گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ احتجاج کے بعد اسلام آباد کی جانب پیدل لانگ مارچ کا آپشن بھی موجود ہے۔ ان کے بقول یہ دنیا کی تاریخ کا عظیم ترین پیدل لانگ مارچ ہوگا اور اسلام آباد میں ایک سمت سے نہیں بلکہ ہر طرف سے پہنچیں گے۔ حکومت کے کنٹینرز اور بندوقیں عوام کو نہیں روک سکتیں۔
امیر جماعت اسلامی نے حکمرانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو عوام کا ریلا کوئی نہیں روک سکے گا۔ حکمران نوشتہ دیوار پڑھ لیں، اب انہیں بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے اپنی عیاشیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ بڑے محلات، سرکاری رہائش گاہوں اور بیوروکریسی کی مہنگی گاڑیوں پر عوام کے پیسے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پورے پاکستان کو بڑی مقدار میں ریونیو دیتا ہے لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں شہر کے وسائل سے فائدہ اٹھاتی ہیں، جبکہ شہریوں کو پانی، ٹرانسپورٹ اور امن و امان سمیت بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی میں موٹر سائیکل سواروں، مڈل کلاس طبقے، طلبہ اور فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز سے مختلف صورتوں میں بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ بجلی کے بلوں میں فکس چارجز کے ذریعے بھی عوام پر اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے۔
آئی پی پیز کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بجلی پیدا نہ کرنے کی قیمت بھی عوام سے وصول کی جاتی رہی ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کے احتجاج کے نتیجے میں حکومت نے ماضی میں آئی پی پیز سے بعض معاہدوں پر نظرثانی کی، جبکہ آج کی خبر کے مطابق مزید 7 آئی پی پیز کے معاہدے منسوخ کیے گئے ہیں، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تعلیم کے شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب حکمرانوں کی جانب سے مہنگے جہاز خریدے جا رہے ہیں۔ قوم حکمرانوں کی عیاشیوں کا بوجھ مزید برداشت نہیں کرے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے صومالیہ میں مبینہ طور پر قید پاکستانی شہریوں کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ بحری قزاقوں نے پاکستانی شہریوں کو تین ماہ سے زائد عرصے سے قید کر رکھا ہے، لیکن حکمران ان کی رہائی کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اس معاملے پر ہر سطح پر رابطے کیے ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن قوم کی امید بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی اپیل پر ملک بھر میں 510 جبکہ کراچی سے کشمور تک 61 سڑکوں پر احتجاج کیا گیا۔ انہوں نے سندھ میں غربت، امن و امان اور صاف پانی کی عدم دستیابی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کے عوام نے ثابت کردیا ہے کہ شہر جاگ رہا ہے۔ خواتین سمیت ہزاروں افراد نے جلسے میں شرکت کرکے پیٹرولیم لیوی کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزراء کے پٹرول پر بھاری اخراجات اور حکمرانوں کے پروٹوکول عوام کے لیے ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے کراچی میں پانی، ٹرانسپورٹ، اسٹریٹ کرائم اور کے فور منصوبے کی تاخیر پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
جماعت اسلامی سندھ کے سیکریٹری محمد یوسف نے کہا کہ عوام کا سمندر مطالبہ کر رہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔ ان کے مطابق ملک بھر کے گورنر ہاؤسز اور وزیر اعلیٰ ہاؤسز کے باہر دھرنے جاری ہیں اور لیوی کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ لیوی ختم کرتی ہے یا پھر عوامی لانگ مارچ کا سامنا کرتی ہے۔
صدر سندھ ہائی کورٹ بار حسیب جمالی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ میں نظامِ حکومت پر عوام کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے اور کراچی جیسے بڑے شہر کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے حافظ نعیم الرحمن کی جدوجہد کی حمایت کا اعلان کیا۔
کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی سے عوام کے ساتھ تاجر برادری بھی شدید متاثر ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات نے گھر گھر مشکلات پیدا کردی ہیں۔
جلسہ عام سے امیر جماعت اسلامی ضلع جنوبی سفیان دلاور، منتظم جمعیت طلبہ عربیہ کراچی حافظ صفدر علی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، جبکہ نظامت کے فرائض ڈپٹی سیکریٹری کراچی وقاص اعظمی نے انجام دیے۔