پھولوں کی پتیاں اور سیاسی رویے کا تضاد

پھولوں کی پتیاں اور سیاسی رویے کا تضاد

یہ عمران خان کے دورِ حکومت کے ابتدائی دنوں کی بات ہے۔ عمران خان نے 17 اگست 2018 کو وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا اور چند ہی روز بعد نواز شریف سے متعلق سخت حکومتی اقدامات سامنے آنے لگے۔

اس دور کا ایک واقعہ آج بھی سیاسی بحث میں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لے جاتے ہوئے نواز شریف کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے کی کوشش کرنے والے دو افراد کے خلاف 20 اگست 2018 کو ایف آئی آر درج کی گئی۔

اگر یہ واقعہ اسی طرح ہوا تھا تو سوال صرف ایف آئی آر کا نہیں، سیاسی آزادی، اختلافِ رائے اور ریاستی ردعمل کے دوہرے معیار کا ہے۔

آج اگر کسی سیاسی رہنما کے استقبال میں لوگ پھول برسائیں اور اس پر کوئی مقدمہ نہ بنے تو پھر سیاسی جماعتوں کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کل کے واقعات کو آج کے معیار سے جانچتے ہوئے انصاف کا پیمانہ سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ پھول کس نے برسائے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست سیاسی اختلاف کے اظہار کو کب جرم سمجھتی ہے اور کب اسے برداشت کرتی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں