عمران خان سے متعلق عدالتی حکم پر عملدرآمد کا تنازع، پی ٹی آئی کا حکومت و انتظامیہ پر سخت ردعمل
اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے معاملے پر حکومت، انتظامیہ اور تحریک انصاف کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی نے حکومت اور انتظامیہ کے گزشتہ روز کے رویے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین ججز کے حکم کو ایک بار پھر ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔
سہیل خان آفریدی کا کہنا تھا کہ عوام کی امید عدلیہ سے وابستہ ہے، اگر عدلیہ ہی اپنے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کروا سکے گی تو عوام کہاں جائیں گے؟ اگر پاکستان کے مقبول ترین لیڈر عمران خان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو عام پاکستانی کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کی توہین ہے، عدلیہ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ عدالتوں کو تالے لگانے ہیں یا اپنے فیصلوں کو نافذ بھی کروانا ہے۔
عمران خان کو اسپتال لے جانے اور واپسی سے متعلق متضاد اطلاعات
دوسری جانب صحافی صدیق جان کی رپورٹ کے مطابق اطلاعات ہیں کہ عمران خان نے گزشتہ رات اسپتال جانے سے انکار کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں آمادہ کیا گیا اور وہ اس شرط پر اسپتال جانے پر رضامند ہوئے کہ صرف طبی ٹیسٹ کروا کر واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان اسپتال میں قیام پر رضامند نہیں ہوئے اور واپس اڈیالہ جیل منتقل ہوگئے۔ تاہم اس حوالے سے تحریک انصاف کے باضابطہ مؤقف اور عمران خان کی بہنوں کے بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
صدیق جان کے مطابق بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کسی ایسے تاثر سے گریز کرنا چاہتے ہیں جس سے یہ محسوس ہو کہ انہوں نے کسی ڈیل یا سیٹلمنٹ پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق صورتحال عمران خان کی بہنوں کے بیان کے بعد مزید واضح ہوگی۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کا مؤقف
عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ شفا انٹرنیشنل اسپتال نہیں جائیں گے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق انہیں موقع پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز اسپتال لے جایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کیوں کی جا رہی ہے، تاہم انہیں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق پمز میں عمران خان کی آنکھوں کا معائنہ کیا گیا اور انہیں انجکشن بھی لگایا گیا، جس کے بعد انہیں تیزی سے وہاں سے باہر لے جایا گیا۔ ان کے بقول انہیں اور عمران خان کو الگ الگ گاڑیوں میں بٹھایا گیا۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے مزید بتایا کہ جب وہ اڈیالہ جیل پہنچیں تو ڈاکٹر فیصل کو ایک دوسری گاڑی سے اترتے دیکھا، جنہوں نے مبینہ طور پر انہیں کہا کہ سہیل سے کہیں کہ موومنٹ تیز کرے۔
عمران خان کے ساتھ مبینہ غیر انسانی سلوک کا الزام
دوسری جانب ڈاکٹر عظمیٰ خان نے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے ملاقات کے دوران جیل میں مبینہ ظلم، ذہنی ٹارچر اور طبی شکایات کو نظرانداز کیے جانے کی شکایت کی۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ قوم کو بتایا جائے کہ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں شدید ٹارچر کا سامنا ہے، جبکہ جیل میں ان کی کوئی بات نہیں سنی جا رہی۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر عظمیٰ خان اپنے بھائی کی صورتحال بیان کرتے ہوئے آبدیدہ بھی ہوگئیں۔
عمران خان کی صحت، اسپتال منتقلی، عدالتی حکم پر عملدرآمد اور اڈیالہ جیل واپسی سے متعلق مختلف دعوے سامنے آنے کے باعث صورتحال پر مزید وضاحت تحریک انصاف کے باضابطہ مؤقف اور عمران خان کی بہنوں کے آئندہ بیان سے متوقع ہے۔
#ContemptOfCourt