ملک گیر ہڑتال کا اعلان، پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک مزید وسیع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 12 ربیع الاول کے اگلے ہفتے ملک گیر ہڑتال کی جائے گی، جس میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن بھی شامل ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لاہور، کراچی اور پشاور میں جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں اور عوام کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی ملک بھر میں احتجاجی کیمپ بھی قائم کرے گی، جبکہ کل کراچی میں دھرنے کے مقام پر جلسہ عام ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی عوام پر ’’بھتہ ٹیکس‘‘ ہے، فی لیٹر تقریباً 80 روپے ایسا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ حکومت نے اب تک لیوی کی مد میں عوام سے 8 ہزار ارب روپے سے زائد جمع کیے، تاہم ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پر 100 ارب روپے بھی خرچ نہیں کیے گئے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے، بصورت دیگر دھرنوں کا دائرہ پورے ملک تک پھیلایا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف اگر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کم کرنا چاہتے ہیں تو صرف 30 روپے نہیں بلکہ 130 روپے تک کا بوجھ کم کریں۔
حافظ نعیم الرحمن نے آئی پی پیز کے حوالے سے کہا کہ جماعت اسلامی کے سابق احتجاج کے نتیجے میں پانچ آئی پی پیز بند کیے گئے اور دیگر کے ساتھ نئے معاہدے ہوئے، جس سے قومی خزانے کو 3,360 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ ان کے مطابق بجلی کے شعبے میں اب بھی 73 آئی پی پیز سے مؤثر مذاکرات کی ضرورت ہے، جن کے نتیجے میں آئندہ ایک سے ڈیڑھ سال میں بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا مجموعی قرض 98 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ سودی نظام قرضوں کے بوجھ میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ حکومت اپنے سود کے خاتمے کے وعدے پورے کرے اور سرکاری اخراجات میں کمی لائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اشرافیہ کے اخراجات کا بوجھ غریب عوام اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو ’’اشرافیہ نہیں بلکہ بدمعاشیہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام پر غیرضروری ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے اور کرپشن کا نظام ختم کیا جائے۔
صوبائی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کو تباہ کردیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) گزشتہ 40 سال سے پنجاب پر حکمرانی کر رہی ہے اور صوبے میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔
تعلیمی پالیسی کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے دعویٰ کیا کہ پنجاب حکومت نے 11 ہزار اسکول آؤٹ سورس کردیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت تعلیمی نظام نہیں چلا سکتی تو یہ اس کی ناکامی ہے۔
حکومتی بریفنگز میں شرکت سے متعلق سوال پر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومتی بریفنگز میں بیٹھنے کے بجائے براہ راست عوام کے درمیان بات چیت چاہتی ہے۔ حکمران دھرنوں میں آکر جماعت اسلامی سے مذاکرات کریں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ انہیں علاج کی سہولیات سے روکنا فسطائیت ہے، عمران خان کو علاج کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں اور عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔