ٹی وی پروگرام میں قیوم صدیقی کے رویے پر سوشل میڈیا پر بحث
اسلام آباد: معروف صحافی و تجزیہ کار قیوم صدیقی کے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران رویے پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کے حوالے سے مختلف صارفین نے قیوم صدیقی کے اندازِ گفتگو پر تنقید کی، جبکہ بعض افراد نے اینکر کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اینکر نے صرف مہمان سے ایک منٹ رکنے کی درخواست کی تاکہ دوسرے مہمان سعد رسول اپنی بات مکمل کر سکیں۔
صحافی فریحہ ادریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اینکر کی جانب سے کوئی بدتمیزی نہیں کی گئی، بلکہ انہوں نے صرف قیوم صدیقی سے ایک منٹ رکنے کی درخواست کی تھی تاکہ سعد رسول اپنا جملہ مکمل کر سکیں۔
دوسری جانب کوئٹرینا حسین نے قیوم صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اینکر اور دوسرے مہمان سے معذرت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق قیوم صدیقی نے مہمان کی گفتگو میں مداخلت کی اور جب انہیں بات مکمل ہونے تک انتظار کرنے کا کہا گیا تو انہوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
امجد خان نے بھی ایکس پر معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے قیوم صدیقی کے رویے پر تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ اگر اینکر نے انہیں ڈانٹا تو اس کی وجہ کیا تھی۔
واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، تاہم پروگرام کے مکمل سیاق و سباق اور تمام فریقین کا مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی معاملے کی مکمل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
اینکر شفا یوسف زئی نے کہا کہ ” اسے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ بدتمیز یا بے عزت نہیں تھی۔ وہ بہت شائستہ تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ جب صدیقی صاحب نے اپنا مائیک پھینک دیا تو وہ شو چھوڑ کر وہیں بیٹھے کیوں نہیں رہے؟ 🤔”
سئنیر پروڈیوسر ظفر نقوی کا کہنا ہے کہ قیوم صدیقی صاحب سینیئر رپورٹر اور کورٹ کیسز کا بے پناہ تجربہ رکھتے ہیں، میرے لئے بہت محترم ہیں لیکن یہاں کچھ زیادتی کر رہے ہیں کیونکہ بیرسٹر سعد رسول صاحب انتہائی شائستہ انداز میں اپنا نقظہ نظر بیان کر رہے ہیں انہیں آپ بیان کرنے دیں اس کے بعد بیشک اپنی گفتگو فرمائیں آجکل دیکھنے والے ہم سب سے بہت سیانے ہیں حضور، مائیک اتارنا یا شو چھوڑ کے جانے پر ناظرین مجھ سے بہتر رائے دے سکتے ہیں، بیرسٹر صاحب بہت لیگل اور لاجیکل گفتگو کر رہے ہیں، میں خود بھی لا گریجویٹ ہوں لیکن یہ ٹوئیٹ کرنے سے پہلے میں نے دو بہت قابل قانونی ماہرین سے بات کی ان کی رائے بھی یہی تھی جس بیرسٹر سعد رسول صاحب کی ہے، باقی صدیقی صاحب کا پورا احترام ہے …