عمران خان کی اسپتال منتقلی پر نیا تنازع، سپریم کورٹ کے تحریری حکم کا انتظار عدالت میں دی گئی ہدایات اور صحافیوں کی جانب سے مختلف دعووں نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی،

عمران خان کی اسپتال منتقلی پر نیا تنازع، سپریم کورٹ کے تحریری حکم کا انتظار

عدالت میں دی گئی ہدایات اور صحافیوں کی جانب سے مختلف دعووں نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی، حتمی صورتحال تحریری حکم نامے سے واضح ہوگی

ثاقب بشیر:
“کورٹ روم کے اندر جن صحافیوں نے خود آرڈر سنا ہے وہی رپورٹ کیا ہے وہ بے خبر تھوڑے۔۔۔ جبکہ جو گھروں میں سوئے ہوئے تھے یا اس سماعت کی کارروائی سے لاعلم تھے وہ ‘باخبری’ ٹھہرے۔”

عدیل سرفراز:
“دیکھیں صورتحال! جسٹس شاہد وحید نے سماعت کے اختتام پر کمرہ عدالت میں تین فاضل ججز پنجاب سے عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کا متفقہ حکم نامہ ڈائریکٹ کروایا تا ہم اب کچھ ‘باخبر’ صحافی تحریری فیصلے میں بڑی تبدیلی کی پیشگوئی کر رہے ہیں!”

منیب فاروق:
“عمران خان صاحب کا علاج اور فیملی سے ملاقات ہر طرح سے جائز اور قانونی ہے۔ آج کی سماعت بہت حوصلہ بخش رہی۔ لیکن صرف اتنا عرض کر رہا ہوں کہ written order جلد آ جائے تاکہ کوئی surprise نہ ہو جائے اور جو امید سماعت اور اس کی رپورٹنگ سے پیدا ہوئی، وہ متعلقہ لوگوں اور اہلخانہ کے لیے برقرار رہے۔”

منیب فاروق (بعد ازاں):
“لکھے ہوئے آرڈر کا انتظار کیجئے۔ اللہ خیر کرے۔”

نصراللہ ملک:
“عمران خان صاحب کا میڈیکل چیک اپ اب ہوگا اور اسپتال منتقل ہونے کا امکان کم ہے۔ باخبر قانونی اور حکومتی ذرائع کے مطابق عدالت نے صرف میڈیکل بورڈ کے ذریعے معمول کے طبی معائنے کا حکم دیا تھا، لیکن پی ٹی آئی اور میڈیا نے اسے عدالتی حکم پر اسپتال منتقلی کے طور پر پیش کر دیا۔”

غریدہ فاروقی:
ان کے مطابق عمران خان کی جیل سے اسپتال منتقلی کی خبر درست نہیں اور سپریم کورٹ میں اس کی مخالفت نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے صرف یہ پوچھا کہ عمران خان کے میڈیکل چیک اپ اور علاج کے لیے کیا انتظامات ہیں، جبکہ تحریری حکم نامے میں حتمی صورتحال واضح ہوگی۔

اہم نکتہ:
اس تمام معاملے میں اصل فیصلہ سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے سے ہوگا۔ اس وقت مختلف صحافیوں کی رپورٹس اور عدالتی کارروائی کی مختلف تشریحات کے باعث ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں