پاکستانی نژاد مریم خان کی ایک اور تاریخی کامیابی، کنیکٹیکٹ سینیٹ کی پہلی مسلمان خاتون رکن بننے کی جانب اہم قدم

پاکستانی نژاد مریم خان کی ایک اور تاریخی کامیابی، کنیکٹیکٹ سینیٹ کی پہلی مسلمان خاتون رکن بننے کی جانب اہم قدم

کنیکٹیکٹ، امریکا: پاکستانی نژاد امریکی سیاست دان مریم خان نے امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کے دوسرے اسٹیٹ سینیٹ ڈسٹرکٹ کے لیے ڈیموکریٹک پرائمری میں کامیابی حاصل کر کے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا۔

11 اگست کو ہونے والی تین طرفہ ڈیموکریٹک پرائمری میں مریم خان نے موجودہ سینیٹر ڈگلس میک کروری اور ایانا ٹیلر کو شکست دی۔ مریم خان نے 3,521 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ایانا ٹیلر 2,874 اور ڈگلس میک کروری 2,255 ووٹ لے سکے۔

مریم خان نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ کنیکٹیکٹ اسٹیٹ سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والی پہلی مسلمان خاتون بن جائیں گی۔

مریم خان اس وقت کنیکٹیکٹ ہاؤس آف ریپریزنٹیٹو کی رکن ہیں۔ انہوں نے 2022 میں خصوصی انتخاب جیت کر ریاستی ایوانِ نمائندگان میں قدم رکھا تھا اور وہ کنیکٹیکٹ ہاؤس کی پہلی مسلمان رکن بننے کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔

پاکستان میں پیدا ہونے والی مریم خان بچپن میں 1994 میں اپنے خاندان کے ہمراہ امریکا منتقل ہوئی تھیں۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ اسپیشل ایجوکیشن ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں اور بعد ازاں کنیکٹیکٹ کی قانون ساز اسمبلی میں خصوصی تعلیم سمیت تعلیم اور بجٹ سے متعلق امور پر کام کرتی رہیں۔

مریم خان کی سیاسی جدوجہد میں پاکستانی پس منظر بھی نمایاں رہا ہے۔ رواں سال کنیکٹیکٹ ہاؤس کے ایوان میں ان کی میز پر موجود امریکی پرچم کی جگہ پاکستانی پرچم رکھنے پر بھی سیاسی بحث ہوئی تھی۔ مریم خان نے اس اقدام کو اپنے پاکستانی ورثے کی عکاسی قرار دیا تھا۔

مریم خان کی کامیابی نہ صرف پاکستانی امریکی کمیونٹی بلکہ امریکی سیاست میں مسلم خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ نومبر کے عام انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہ کنیکٹیکٹ اسٹیٹ سینیٹ میں ایک نئی تاریخ رقم کریں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں