لیوی ختم کرکے پٹرول کی قیمت 225اور آٹے پر سبسڈی دیکر روٹی 10روپے کی جائے۔حافظ نعیم الرحمن
لیوی کے نام پر بھتہ وصولی کے خلاف کل کوئٹہ پشاور کراچی کے گورنر ہاؤسزاور لاہور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر عوامی دھرنے دیئے جائیں گے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی اور صوبائی ذمہ داروں کے ہمراہ منصورہ میں پریس کانفرنس
لاہور15اگست 2026ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کل 16اگست کو لیوی ٹیکسز کے خلاف کراچی، پشاور، کوئٹہ کے گورنر ہاؤسز اور لاہور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دے گی،یہ دھرنے سہ پہر 4بجے شروع ہوں گے۔مختلف شہروں سے عوام کے قافلے مارچ کرتے ہوئے دھرنوں کے مقامات پر پہنچیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی اور صوبائی ذمہ داران کے ہمراہ منصورہ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امراء لیاقت بلوچ،میاں محمد اسلم،ڈاکٹر عطاء الرحمن ،قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ،ڈپٹی سیکریٹری اظہر اقبال حسن ، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری ، سیکریٹری صوبہ وسطی پنجاب بابر رشید ، سوشل میڈیا ہیڈ سلمان شیخ ، جے آئی یوتھ کے احمد سلمان بلوچ اور جبران بٹ بھی موجود تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم پر امن طور پر پریشان حال محنت کشوں،مزدوروں طلباء سمیت معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کی آواز حکومتی ایوانوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔اگر ہمارے احتجاج میں حکومت نے ایڈونچر یا کھلواڑ کرنے کی کوشش کی تو پھر پیٹرول کم قیمت کرنے کی یہ تحریک حکومت گراؤ تحریک میں بھی بدل سکتی ہے۔ جماعت اسلامی نے گزشتہ ہفتے پانچ سو دس مقامات پر دھرنے دیے، کسی ایک مقام پر کوئی گملہ بھی نہیں ٹوٹا،ہم پر امن رہتے ہوئے میدان میں نکلیں گے اوراپنا حق لے کر جائیں گے۔ہم دھرنے شروع ہونے کا وقت دے رہے ہیں ختم ہونے کا نہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ پٹرول لیوی ختم کرکے قیمت 225روپے اورآٹے بجلی گیس کی قیمتیں کم کرکے روٹی دس روپے کی جائے۔وفاقی و صوبائی بیوروکریسی ججز جرنیلوں،وزراء اور مشیر وں کی گاڑیاں 13سو سی سی سے بڑی نہیں ہونی چاہیے،مفت بجلی گیس اور تیل سمیت شاہانہ مراعات ختم کی جائیں اور عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ عوام پر خرچ کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام پر حکمرانوں کے ظلم کی انتہا ہوگئی ہے۔حکومتی اخراجات عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ ڈال کر پورے کئے جارہے ہیں۔حکمران اپنے خرچے کم اور مراعات ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں پٹرول کے ایک لٹر پر 130روپے لیوی کے نام پر بھتہ وصول کیا جارہا ہے،وفاقی حکومت کے اخراجات کا تخمینہ آٹھ سو ارب تھا مگر حکومت ایک ہزار ارب روپے خرچ کرچکی ہے اور عوام کو خون نچوڑ کر حکمران شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔عوام کو ٹرانسپورٹ میسر نہیں اور وزیر اعلٰی 11ارب کے جہاز میں گھوم رہی ہیں اور جب کہا جاتا ہے توڈھٹائی سے کہتے ہیں ہاں خریدا ہے جہاز۔انہوں نے کہا کہ عوام اب بھی نہ نکلے تو پھر کب گھروں سے باہر نکلیں گے۔ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں،جماعت اسلامی ہمیشہ عوامی ایجنڈے کو لیکر چلتی ہے۔اس وقت الیکشن نہیں ہو رہے مگر جماعت اسلامی عام آدمی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے میدان میں موجود ہے۔ہم اپوزیشن جماعتوں اور دینی جماعتوں سمیت تمام سیاسی کارکنوں کو بھی باہر نکلنے اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے جماعت اسلامی کی آواز میں آواز ملانے کی دعوت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ہمارا راستہ روکا تو پھر ہمارے پاس دوسرا پلان موجود ہے،ہمیں روکا گیا تو یہ دھرنے پورے ملک میں پھیل جائیں گے۔حکمران خوب جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے کارکنان پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ہم ڈنڈے اور شیل کھانے کے عادی ہیں ہمارے کارکنان تربیت یافتہ ہیں اگر حکومت نے انتشار اور فساد پھیلانے کی کوشش کی توساری ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ابھی ایک ہفتہ قبل ملک بھر میں پانچ سو دس مقامات پر پر امن دھرنے دیئے گئے تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہواکہ لاکھوں لوگ احتجاج کررہے ہوں اور کوئی ایک گملہ ٹوٹے نہ کسی کی نکسیر تک پھوٹی ہو۔انہوں نے کہا کہ مجھے گڈز ٹرانسپورٹرز کا فون آیاتھا ہم ان کا معاملہ بھی اٹھائیں گے تمام ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو بھی کہتے ہیں اپنے مطالبات ایسے انداز میں پیش کریں جن سے عوام کومشکلات نہ ہوں،انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں افراتفری نہیں چاہتے ہم فارم سینتالیس کی حکومت کے خلاف ہیں کراچی میں ہماری سیٹیں چھین کر ظلم کیا گیامگر ہم پر امن رہے۔ حکومت ہمارے صبر کو نہ آزمائے،عوام ان حکمرانوں کو مزید برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ نااہل حکمران آئی پی پیز کو بجلی بنانے سے زیادہ بجلی نہ بنانے کے پیسے دے رہے تھے اور ظلم پر ظلم یہ کہ یہ ادائیگیاں ڈالروں میں کی جارہی تھیں۔ہماری تحریک کے نتیجے میں کئی معاہدے منسوخ ہوئے اور ملک کوہزاروں ارب روپے کے زر مبادلہ کا فائدہ ہواجبکہ عوام کو 7روپے فی یونٹ کا ریلیف ملا۔انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے درجنوں معاہدے ایسے ہیں جن کو ختم کرکے عوام کوبجلی سستی دی جاسکتی ہے۔پنجاب اور کے پی میں عوام کو روزانہ 6سے آٹھ گھنٹے لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنا پڑ رہا ہے جس سے نجات مل سکتی ہے۔
شکیل احمد ترابی سیکرٹری اطلاعات رابطہ نمبر: 0321-9559222