حفیظ اللہ نیازی اور شہباز گل آمنے سامنے، ’’بطلِ حریت‘‘ سے پاکستان واپسی کا مطالبہ، جواب میں تلخ طنز نیازی نے شہباز گل کو وطن واپس آکر تحریک چلانے کا چیلنج دے دیا،

اسلام آباد:

تحریک انصاف کے رہنماؤں اور عمران خان کے قریبی حلقوں سے وابستہ شخصیات کے درمیان اختلافات ایک بار پھر سوشل میڈیا پر نمایاں ہوگئے۔ معروف کالم نگار حفیظ اللہ نیازی اور سابق معاون خصوصی شہباز گل کے درمیان ایک دوسرے کو مخاطب کرتے ہوئے سخت اور طنزیہ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے، جس میں عمران خان کی سیاسی جدوجہد، پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال، حسان نیازی کے مقدمے اور اسٹیبلشمنٹ سے متعلق دونوں شخصیات کے مؤقف سامنے آئے ہیں۔

حفیظ اللہ نیازی نے اپنے ایک طویل ٹویٹ میں شہباز گل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ان کے بیٹے بیرسٹر حسان نیازی دلیری اور وفاداری کے تمام تقاضے پورے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اپنی 73 سالہ زندگی متعین رہنما اصولوں اور نظریاتی ڈسپلن کے تحت گزری ہے اور انہوں نے زندگی کو نفع و نقصان یا کاروباری مفادات کے تابع نہیں کیا۔

حفیظ اللہ نیازی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے جیل جانے کے بعد انہوں نے بغیر کسی مفاد کے عمران خان کے حق میں کھل کر لکھا اور بولا، تاہم ان کے بقول یہ حمایت عمران خان سے زیادہ اپنے اصولوں اور مؤقف کے ساتھ وابستگی کا اظہار ہے۔

انہوں نے شہباز گل کے ساتھ اپنے تعارف کو محدود قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کے بارے میں ان کی معلومات واجبی اور سنے سنائے مفروضوں پر مبنی ہیں، جبکہ عمران خان اور ان کے درمیان تعلق اور معاملات کے بارے میں بھی شہباز گل کی معلومات ناکافی اور نامکمل ہیں۔

حفیظ اللہ نیازی نے اپنے ٹویٹ میں شہباز گل کو پاکستان واپس آنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی حریتِ فکر و اظہار کے علمبردار ہیں تو انہیں بیرونِ ملک رہنے کے بجائے پاکستان آکر عمران خان اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی غیر موجودگی میں پارٹی کو قیادت اور رہنمائی کے بحران کا سامنا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے اندرونی اور باہمی اختلافات بھی بڑھ چکے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں پارٹی کے کارکنوں کو بے آسرا نہیں چھوڑنا چاہیے اور مشکل وقت میں قیادت کو عملی طور پر میدان میں موجود ہونا چاہیے۔

حفیظ اللہ نیازی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ طویل عرصے سے ہائبرڈ نظام اور آمریت کے خلاف لکھتے رہے ہیں۔ ان کے بقول مارچ 2019 سے اپریل 2022 تک روزنامہ جنگ میں ان کے کالم کی اشاعت پر تین سال سے زائد عرصے تک پابندی رہی اور اس وقت کی مقتدرہ نے ان کے لیے حالات مشکل بنا دیے تھے۔

انہوں نے شہباز گل پر ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے قریب رہنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب بعض لوگ اقتدار کے قریب تھے، وہ اس وقت بھی دستیاب پلیٹ فارم سے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے رہے۔ حفیظ اللہ نیازی نے سیاسی رہنماؤں کے بارے میں اپنے طرزِ عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی پسند و ناپسند سے قطع نظر کسی بھی سیاست دان کے اچھے کام اور اصولی مؤقف کی تعریف کرتے رہے ہیں اور سیاسی دو نمبریوں پر بھی بلاامتیاز تنقید کی ہے۔

حفیظ اللہ نیازی نے اپنے پیغام کے اختتام پر شہباز گل کو براہِ راست پاکستان واپس آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ان کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر شہباز گل واقعی خود کو حریت کا علمبردار سمجھتے ہیں تو انہیں پاکستان آکر عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک چلانی چاہیے، اور ایسی صورت میں وہ خود بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

شہباز گل کا سخت جواب

حفیظ اللہ نیازی کے بیان پر شہباز گل نے بھی سوشل میڈیا پر تفصیلی جواب دیا۔ انہوں نے ابتدا میں حفیظ اللہ نیازی کو اپنا بڑا بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا بے حد احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ حسان نیازی کے والد بھی ہیں۔

تاہم اس کے بعد شہباز گل نے حفیظ اللہ نیازی کے مؤقف پر سخت طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے نزدیک آرمی چیف جنرل عاصم منیر انتہائی بلند مقام رکھتے ہیں تو پاکستان واپس آنے کی صورت میں انہیں خدشہ ہے کہ وہ ملک پہنچتے ہی گرفتار کر لیے جائیں گے۔

شہباز گل نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پاکستان پہنچتے ہی اگر انہیں جیل بھیج دیا گیا تو اس سے عمران خان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، البتہ ان کے بقول وہ جو روزانہ جنرل عاصم منیر پر تنقید کرتے ہیں، وہ سلسلہ ضرور رک جائے گا۔

شہباز گل نے حسان نیازی کے ملٹری کورٹس کے معاملے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ وہ ان ججز اور فیصلوں پر تنقید کرتے رہے ہیں جن کے نتیجے میں حسان نیازی سمیت بعض افراد کے خلاف کارروائی ہوئی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا تو عمران خان، ارشد شریف، بشریٰ بی بی، یاسمین راشد اور حسان نیازی کے حق میں آواز اٹھانے والا ایک اور شخص خاموش ہو جائے گا۔

شہباز گل نے حفیظ اللہ نیازی کے مشورے پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ جیسے دوست ہوں تو دشمن کی تلاش پھر کیوں۔‘‘

انہوں نے اپنے جواب کے آخر میں حفیظ اللہ نیازی سے کہا کہ کاش وہ ایسا ہی مشورہ اپنے ’’پیارے نواز شریف‘‘ کو بھی دیتے۔ شہباز گل نے مزید کہا کہ انہیں امید تھی کہ حفیظ اللہ نیازی کا غصہ ختم ہو چکا ہوگا، تاہم ان کے بقول وہ غصہ اب بھی اپنے عروج پر ہے۔

شہباز گل نے اپنے پیغام کا اختتام اس دعا کے ساتھ کیا کہ اللہ حفیظ اللہ نیازی کے دل میں نرمی پیدا کرے۔

دونوں شخصیات کے درمیان یہ سوشل میڈیا مکالمہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تحریک انصاف کو عمران خان کی طویل قید، پارٹی کی اندرونی صف بندی اور قیادت کے باہمی اختلافات سمیت متعدد سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے بیانات میں عمران خان سے وابستگی کا اظہار تو نمایاں ہے، تاہم موجودہ سیاسی حکمتِ عملی، بیرونِ ملک قیادت کے کردار اور پاکستان میں عملی سیاسی جدوجہد کے طریقۂ کار پر ان کے درمیان واضح اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں