دمام میں ایسٹرن ریجن اسکالرز سمٹ 2026، طلبہ کی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ
رپورٹ: ندیم شیر اعوان — دمام
دمام: گرین گلوبل انٹرنیشنل اسکول کے زیر اہتمام ایسٹرن ریجن اسکالرز سمٹ 2026 دمام میں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں سعودی عرب کے مشرقی ریجن کے مختلف اسکولوں سے تعلق رکھنے والے ہونہار طلباء نے شرکت کی اور اپنی علمی، تخلیقی، ابلاغی اور فکری صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔
ایسٹرن ریجن اسکالرز سمٹ 2026 میں طلباء کے لیے مختلف تعلیمی اور فکری مقابلوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں جنرل نالج اینڈ سائنس کوئز، اسلامک نالج، سپیلنگ بی چیمپئن شپ، قرأت اور تقریری مقابلے شامل تھے۔ ان مقابلوں نے طلباء کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے، اعتماد میں اضافہ کرنے اور مثبت مسابقتی ماحول میں اپنی قابلیت منوانے کا بہترین موقع فراہم کیا۔
تقریب میں پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے فوکل پرسن اور پروگرام ہیڈ افنان مشال اور مکتبہ دارالسلام کے بانی مولانا عبدالمالک مجاہد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین ملک حبیب اورکزئی سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
دیگر معزز مہمانوں میں کومل، کوآرڈینیٹر یوتھ افیئرز، پرائم منسٹر یوتھ پروگرام، بریگیڈیئر (ر) وجاہت حسین ساہی، صدر اسلام آباد پریس کلب عبدالرزاق سیال، سعودی عرب کی سپریم کورٹ کے سابق ترجمان شیخ منیر قمر، رانا جاوید اور عبدالصبور قریشی سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل تھیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے افنان مشال نے سمٹ کے کامیاب انعقاد پر گرین گلوبل انٹرنیشنل اسکول کی انتظامیہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ دمام کا دورہ کرکے پاکستانی بچوں کی غیر معمولی صلاحیتوں اور ان کی تعلیمی قابلیت کو دیکھ کر انہیں بے حد خوشی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی مثبت، تعلیمی اور صحت مند مسابقتی سرگرمیاں نوجوان طلباء کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے، اعتماد پیدا کرنے اور مستقبل میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔
مکتبہ دارالسلام کے بانی مولانا عبدالمالک مجاہد نے تقریب کو انتہائی متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے تعلیمی مقابلے بچوں میں خود اعتمادی، ہمت اور قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے گرین گلوبل انٹرنیشنل اسکول کی انتظامیہ کو بامقصد تعلیمی سرگرمی کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔
دیگر مقررین نے بھی اسکول انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کے بچوں کے لیے اس طرح کے علمی اور تربیتی پروگرام نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنی ثقافتی اور تعلیمی اقدار سے بھی جوڑے رکھتے ہیں۔ مقررین نے طلباء، والدین اور اساتذہ کی محنت اور کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
گرین گلوبل انٹرنیشنل اسکول کے سی سی او اور ایونٹ آرگنائزر احسان اللہ بھٹی نے سعودی عرب اور پاکستان کے مختلف شہروں سے آنے والے مہمانوں، اساتذہ، والدین، طلباء اور میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کیا۔
احسان اللہ بھٹی نے کہا کہ ایسٹرن ریجن اسکالرز سمٹ 2026 محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک ایسا منفرد پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد طلباء میں علم، اعتماد، قیادت اور مثبت مسابقتی جذبے کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمٹ نوجوان ذہنوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور مستقبل کے چیمپئن بننے کی جانب پہلا قدم اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گرین گلوبل انٹرنیشنل اسکول کی جانب سے مستقبل میں بھی طلباء کی علمی، تخلیقی اور قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایسے تعلیمی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
منتظمین کے مطابق مقابلوں میں شریک طلباء کو عمر کے تین مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ گروپ اے میں 6 سے 9 سال، گروپ بی میں 10 سے 13 سال جبکہ گروپ سی میں 14 سے 16 سال کے طلباء شامل تھے۔
مختلف مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء کو قیمتی انعامات سے نوازا گیا، جن میں ٹیبلیٹس، ایل ای ڈی ٹی وی، لیپ ٹاپس اور آئی فون 17 ڈیوائسز شامل تھیں۔ منتظمین کے مطابق ان انعامات کا مقصد نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور طلباء میں تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے مزید جوش و جذبہ پیدا کرنا ہے۔
تقریب کے اختتام پر کامیاب طلباء میں شیلڈز، میڈلز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے جبکہ معزز مہمانوں کو بھی اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں۔
اختتامی مرحلے میں احسان اللہ بھٹی، افنان مشال، مولانا عبدالمالک مجاہد، ملک حبیب اورکزئی اور یوتھ پروگرام کوآرڈینیٹر کومل نے میڈیا سے گفتگو کی۔ مقررین نے سمٹ کے مقاصد، شریک طلباء کی غیر معمولی صلاحیتوں اور نوجوان نسل کے لیے معیاری و بامقصد تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ایسٹرن ریجن اسکالرز سمٹ 2026 نے طلباء کو علمی مقابلے کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کے اظہار، اعتماد سازی اور قائدانہ اوصاف کو فروغ دینے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا، جبکہ تقریب نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی طلباء کی تعلیمی صلاحیتوں اور روشن مستقبل کی ایک خوبصورت تصویر بھی پیش کی۔







