بھارتی طلبہ رہنما نیہا بورہ کی ولولہ انگیز تقریر ایک بار پھر وائرل طلبہ حقوق، سماجی انصاف اور احتجاجی سیاست پر دوٹوک مؤقف نے نئی بحث چھیڑ دی

یہ ہیں نیہا بورہ ۔ آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر ۔

اگر آپ نے دہلی کے جنتر منتر پر بھارتی نوجوانوں کے احتجاجی دھرنے کی ویڈیوز دیکھی ہیں تو نیہا بورہ کی وہ شعلہ بیاں تقریر بھی سن رکھی ہوگی جو انہوں نے اسی منج سے بھوک ہڑتال کی حالت میں کی تھی ۔

پاکستان میں یہ تقریر وائرل رہی تھی ۔

کیا غضب کی تقریر اور کیا شاندار oratory کا مظاہرہ تھا وہ ۔ زبان کا غالب حصہ شدھ ہندی پر مشتمل ہے لیکن جیسی روانی، سحرالبیانی، ٹھہراؤ اور جو آواز کا زیر و بم ہے، کمال ۔۔۔

کمپوزڈ مینر اور جیسا eloquent انداز ہے اس سے لگتا ہے کوئی لڑکی نہیں اسکے اندر سے صدیوں کی خطابت کا تجربہ اور تربیت بول رہی ہے ۔

یہ سب سٹوڈنٹس یونین کی برکت سے ہے ۔ سٹوڈنٹس یونینز طلبا کو تراش کر لیڈر اور ہیرہ بنا دیتی ہیں ۔ انہیں شعور، آگہی، زبان، جذبہ اور لیڈرشپ کی صلاحیتیں بخشتی ہیں ۔

نیہا بورہ مشہور زمانہ JNU جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سکول آف آرٹس اینڈ ایستھیٹکس میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہے اور ایک سٹوڈنٹ لیڈر ہے ۔

یہ یونیورسٹی لیفٹ کا گڑھ ہے اور یہاں کی سب سے مضبوط سٹوڈنٹس یونین آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ہے ۔ نیہا بورہ آجکل اسی کی نیشنل پریزیڈنٹ ہیں ۔

تعلق انکا اتراکھنڈ کے پہاڑوں سے ہے اور خود ایک تھیٹر آرٹیسٹ بھی ہے ۔ یقیناً انکی اُس سحر انگیز تقریر اور اس پر عمدہ گرفت کے رازوں میں سے ایک راز انکا سٹیج سنبھالنے کا تجربہ بھی ہے ۔

جب سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تو انکے ساتھ تین مزید لوگوں نے بھی بھوک ہڑتال شروع کی تھی ۔ ان میں سے ایک نیہا بورہ بھی ہے ۔

نیہا بورہ نے پورے 23 دن اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھی حالانکہ انہیں اس دوران بلڈ پریشر کے شدید مسائل کا سامنا رہا اور ساڑھے 7 کلو وزن گر گیا ۔

ڈاکٹروں نے انہیں کہا تھا کہ وہ کوما میں جاسکتی ہیں اور organs ڈیمیج ہوسکتے ہیں ۔

وہ غزہ میں ازرائیل کی جانب سے ہونے والے مظالم پر بھی منہ پھٹ تنقید کیلئے جانی جاتی ہیں ۔

جبکہ انڈیا کی موجودہ حکومت اسرائیل سے دوستی یاری میں مصروف ہے، دائیں بازو کے اکثریت ہندو اسرائیل کے غیر اعلانیہ ترجمان بنے ہوئے ہیں، میجر گورو آریا اسرائیلیوں کو اپنے بھائی اور مودی بھارت کو مدرلینڈ اور اسرائیل کو فادرلینڈ قرار دے رہا ہے ایسے میں بھارت سے غزہ کے مظلوموں کیلئے جو چند ایک آوازیں اٹھتی ہیں وہ نیہا بورہ جیسے لوگوں کی ہی ہیں ۔

اسکی تو فیس بک پروفائل کا کور فوٹو بھی فلسطین کا جھنڈا ہے ۔

2002 کے گجرات فسادات میں ریپ کا شکار ہونے والی بلقیس بانوں کے کیس میں جسٹس فار بلقیس مہم میں بھی نیہا بورہ پیش پیش رہی ہیں ۔

دہلی احتجاج پر جب لاٹھی چارج ہوا تو راہول گاندھی نے اس مسلے پر ایک پریس کانفرنس رکھی اور اپنے ساتھ پریس کانفرنس کرنے کیلئے نیہا بورہ کو بلایا ۔ وہاں بھی انہوں نے اسی فصاحت اور بلاغت کیساتھ مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی ۔

ساوتری بائی نے انیسویں صدی کے ذات پات کے شکار ہندوستان میں جب نچلی جاتیوں اور دلتوں کو پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا تو اسے اپنے خاندان اور جاتی سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔

لیکن جب وہ اپنے مشن سے باز نہیں آئی تو اسے اپنے ہی گھر والوں نے گھر سے نکال دیا تھا ۔ انکے اس مشن میں انکی ساتھی تھیں فاطمہ شیخ جو انکے ساتھ مل کر نچلی جاتیوں کے بچوں کو مفت پڑھاتی تھیں ۔

جب ساوتری بائی کو انکے گھر سے نکال دیا گیا تو فاطمہ شیخ اور انکے بھائی عثمان شیخ نے ساوتری بائی کو اپنے گھر میں جگہ دی اور وہ انکے ساتھ رہنے لگی ۔

اکٹھے مل کر انہوں نے 1848 میں فاطمہ شیخ کے گھر میں ہندوستان کی تاریخ کے پہلے سکول کی بنیاد رکھی تھی ۔ جہاں دیگر بچوں کے ساتھ نچلی جاتیوں اور مظلوم طبقے کے بچے بھی پڑھتے تھے ۔

ان دونوں کو ہندوستان کی پہلی خواتین ٹیچرز مانا جاتا ہے ۔ وہ گھر گھر جاکر لوگوں کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرتی رہیں اور انکے سکول کا کردار انقلابی رہا ۔

اسی طرح امبیدکر ہندوستان کے ایک دلت رہنما، ماہر قانون اور انڈیا کے پہلے آئین کی تشکیل کرنے والی کمیٹی کے سربراہ تھے ۔ انہیں فادر آف انڈین کانسٹیٹیوشن بھی کہا جاتا ہے اور ہندوستان کے پہلے وزیر قانون و انصاف تھے ۔

وہ دلت ہونے کی وجہ سے اور دلتوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کی وجہ سے انتہا پسند ہندوؤں کے نشانے پر رہتے تھے ۔

اُن انتہا پسند ہندوؤں میں سے ایک گوڈسے تھا ۔ اسی نے گاندھی کو قتل کیا تھا اور وہ آج بھی BJP اور RSS کا unofficial ہیرو ہے ۔ گوڈسے جس ہندو انتہا پسند حلقے سے تعلق رکھتا تھا اس حلقے کا فکری مرشد ساورکر تھا ۔

ساورکر ہندوتوا نظرئیے کا بانی بلکہ بابائے ہندوتوا ہے ۔ اسے جب گرفتار کیا گیا تو خود کو چھڑانے کیلئے اس نے بار بار تحریری طور پر انگریز حکومت سے معافی مانگی، رحم کی بھیک مانگی اور وعدہ کیا کہ وہ آئندہ انکا وفادار رہے گا ۔ اور پھر واقعی وہ رہائی کے بعد انگریز کا وفادار رہا ۔

یہ لوگ گاندھی مخالف تو تھے ہی تھے مسلمان دشمن بھی شدید تر تھے ۔

ساورکر کا یہ حلقہ موجودہ BJP اور RSS کے فکری اجداد کا حلقہ ہے اور یہ لوگ BJP ہی کی طرح ہندو مسلم نفرت کی کمیونل سیاست کرتے تھے ۔ جبکہ گاندھی سب کو ساتھ لیکر چلنے کے قائل تھے اور یہ لوگ گاندھی سے ہر میدان میں ہار گئے تھے ۔ اسی لئے انہوں نے آزادی کے دوسرے ہی سال گاندھی کو قتل کردیا تھا ۔

دہلی احتجاج کے مظاہرین پر جب پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کر کے کئی سٹوڈنٹس کو زخمی کیا تو شام کو نیہا بورہ نے ایک دھواں دار تقریر کی ۔ اپنی تقریر میں وہ کہتی ہے

” تم پوچھتے ہو ہماری inspiration کیا ہے ۔ تو سنو ۔

وہ ساوتری بائی، وہ فاطمہ شیخ جنہوں نے پورے سماج کی تہمتیں جھیلی، اپنے جسم پر پتھر کھائے، پھینکا گیا گوبر اپنے بدن پر جھیلا ۔ صرف اس لئے کہ اس دیس کی عورتیں اور یہاں کی نچلی جاتیاں علم حاصل کر سکیں ۔

ہمیں اُن سے inspiration ملتی ہے ۔

ہمیں امبیدکر اور بھگت سنگھ سے inspiration ملتی ہے ۔

لیکن تم inspiration لیتے ہو گوڈسے سے ۔

اس لئے تم سے تشدد کئے بغیر ہو نہیں پاتا ۔

جو لوگ تمہاری inspiration ہیں وہ انگریزوں کے سامنے ناک رگڑتے تھے ۔ جب بھگت سنگھ اور سُکھدیو سنگھ جانیں دے رہے تھے تو تمہاری inspiration انگریزوں کے سامنے ناک رگڑ رہی تھی ۔

یہی کچھ تم آج بھی کر رہے ہو ۔ اسی لئے تم آج بھی تشدد کی طرف جا رہے ہو ۔

لیکن کل بھی ہار تمہاری ہوئی تھی ۔

آج بھی تم ہی ہارو گے ۔

کل بھی ہم ہی جیتے تھے ۔

آج بھی ہم ہی جیتیں گے”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں